نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ایک مضبوط اور متحد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) تمل ناڈو کے عوام کی ترجیح بن چکا ہے، جبکہ دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) بدعنوانی اور خاندانی سیاست کی علامت بن چکی ہے۔ وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا: ’’مضبوط اور متحد این ڈی اے تمل ناڈو کی پہلی پسند ہے۔ عوام اچھی حکمرانی چاہتے ہیں، نہ کہ ڈی ایم کے کی بدعنوانی اور خاندانی سیاست۔‘‘ انہوں نے یہ بات تمل ناڈو میں جمعہ کے روز منعقد اپنے پروگرام کی جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے کہی۔
ڈی ایم کے حکومت کی رخصتی کی الٹی گنتی شروع
انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈی ایم کے قیادت والے حکمراں اتحاد پر شدید حملہ کیا اور کہا کہ تمل ناڈو میں اس حکومت کی رخصتی کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے اور ریاست میں بی جے پی–این ڈی اے کی حکومت بننا طے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی ایم کے نے عوام کے اعتماد کو توڑا ہے اور بدعنوانی میں ملوث رہی ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا: ’’آپ نے ڈی ایم کے کو دو بار مکمل اکثریت دی، لیکن اس نے تمل ناڈو کے عوام کا اعتماد توڑ دیا۔ بڑے بڑے وعدے کیے گئے مگر کام صفر رہا۔ آج عوام ڈی ایم کے حکومت کو ‘سی ایم سی’ یعنی کرپشن، مافیا اور کرائم کی حکومت کہہ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے اب ڈی ایم کے اور سی ایم سی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ریاست میں بی جے پی–این ڈی اے کی ڈبل انجن حکومت یقینی ہے۔ وزیراعظم نے الزام لگایا کہ تمل ناڈو میں موجودہ حکومت جمہوری اقدار اور جوابدہی سے عاری ہے اور عوامی مفادات کے بجائے اقتدار کے تحفظ میں مصروف ہے۔
وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن کا جوابی وار
دوسری جانب، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظم کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے “ڈبل انجن سرکار” کے نعرے کو طنز کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: ’’وزیر اعظم جس ’ڈبل انجن‘ کی بات کرتے ہیں، وہ دراصل ’ڈبہ انجن‘ ہے، جو تمل ناڈو میں نہیں چلنے والا۔‘‘ مدورانتکم میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ اسٹالن نے دعویٰ کیا کہ وہ ریاستیں جہاں بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت نہیں ہے، وہی ترقی کے معاملے میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


