نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی 28 فروری کی رات چنئی پہنچ کر جنوبی ہند کے اہم دورے کا آغاز کریں گے۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم چنئی میں گورنر ہاؤس میں قیام کریں گے، جبکہ شہر بھر میں سکیورٹی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ یکم مارچ کی صبح وزیر اعظم چنئی سے پڈوچیری روانہ ہوں گے، جہاں وہ ایک عوامی پروگرام میں شرکت کریں گے اور بڑے اجتماع سے خطاب کریں گے۔ اس موقع پر ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اسکیموں کو اجاگر کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ مقامی رہنما، عہدیدار اور پارٹی کارکنان بھی شریک ہوں گے۔
مدورئی میں مندر کا دورہ
پڈوچیری میں مصروفیات مکمل کرنے کے بعد وزیر اعظم مدورئی جائیں گے، جسے تمل ناڈو کا ایک اہم ثقافتی مرکز اور ’’وہ شہر جو کبھی نہیں سوتا‘‘ کہا جاتا ہے۔ مدورئی کے دورے کے دوران وزیراعظم تاریخی تروپرنکنڈرم مروگن مندر میں پوجا اور درشن کریں گے۔ یہ مندر بھگوان مروگن کے چھ مقدس مقامات (آروپڈئی ویڈو) میں سے ایک ہے اور ایک اہم زیارتی مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہی مندر حال ہی میں کارتگئی دیپم سے متعلق معاملے کے باعث خبروں میں بھی رہا تھا۔
عظیم عوامی جلسے سے خطاب
مندر کے دورے کے بعد وزیراعظم مدورئی میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کریں گے۔ توقع ہے کہ جنوبی اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ اس ریلی میں شریک ہوں گے۔ وزیراعظم کا یہ دورہ خطے میں عوامی رابطہ مہم کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ ثقافتی وراثت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عوامی فلاحی اقدامات کو اجاگر کرے گا۔
تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کا پس منظر
234 رکنی تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2026 کے پہلے نصف میں متوقع ہیں۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی قیادت والا اتحاد ’دراویڑین ماڈل 2.0‘ کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے گا، جبکہ بی جے پی۔اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد بھی اقتدار کے حصول کی کوشش کرے گا۔ اداکار سے سیاستداں بننے والے وجے کی جماعت تملگا ویٹری کژگم کی شمولیت سے مقابلہ سہ فریقی ہونے کی توقع ہے۔ 2021 کے انتخابات میں درمیوک نے 133 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ کانگریس کو 18 نشستیں ملی تھیں۔ دوسری جانب این ڈی اے اتحاد کو مجموعی طور پر 75 نشستیں حاصل ہوئیں، جن میں اے آئی اے ڈی ایم کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


