نئی دہلی:بورڈ امتحانات کے آغاز سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ’’پریکشا پہ چرچا 2026‘‘ کے تحت ملک بھر کے چار کروڑ پچاس لاکھ سے زائد طلبہ، والدین اور اساتذہ سے براہِ راست گفتگو کی۔ یہ سالانہ پروگرام 6 فروری 2026 کو صبح 10 بج کر 15 منٹ پر شروع ہوا، جو اس سلسلے کا نواں ایڈیشن ہے۔ اس میں ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اسکولوں سے طلبہ، اساتذہ اور والدین شریک ہوئے۔ پریکشا پہ چرچا کے دوران طلبہ کو وزیر اعظم سے براہ راست سوال پوچھنے کا موقع ملا۔ امتحان کے دباؤ سے کیسے نجات پائی جائے، امتحان کی تیاری کس طرح کی جائے، سیلف اسٹڈی اور کوچنگ کا توازن، تعلیم میں نئی ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ امتحان کو بوجھ کے طور پر نہیں بلکہ ایک تہوار کی طرح لینا چاہیے، تاکہ خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھا جا سکے۔ انہوں نے والدین اور اساتذہ کو بھی اہم نکات بتائے تاکہ طلبہ بغیر دباؤ کے بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
مارکس اہم ہیں یا اسکلز؟
اس سوال پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ زندگی میں ہر چیز میں توازن ضروری ہے۔ اگر کسی ایک طرف زیادہ جھکاؤ ہو تو انسان گر ہی جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکلز بھی دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک لائف اسکلز اور دوسری پروفیشنل اسکلز۔ ان کے مطابق دونوں ہی یکساں اہم ہیں اور کسی ایک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسکل کی شروعات علم سے ہوتی ہے، اس لیے تعلیم اور اسکلز کو الگ الگ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسکلز زندگی میں ناگزیر ہیں اور علم ان کی بنیاد ہے۔
دو طرح کی اسکلز پر زور
وزیر اعظم نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ پڑھائی، آرام، اسکلز اور مشاغل کے درمیان توازن قائم رکھیں، کیونکہ یہی ترقی کی اصل کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ لائف اسکلز اور پروفیشنل اسکلز ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور علم کے بغیر اسکل کا تصور ممکن نہیں۔
اپنے اندر یقین رکھیں
وزیر اعظم مودی نے طلبہ کو نصیحت کی کہ جو لوگ مشورے دیتے ہیں، انہیں غور سے سنیں اور سمجھیں، لیکن اندھا دھند ان پر عمل نہ کریں۔ اگر کسی مشورے سے لگے کہ اپنے موجودہ انداز میں کچھ بہتری آ سکتی ہے تو اپنے تجربے کی بنیاد پر اس میں تبدیلی کریں۔ دوسروں کے کہنے پر بغیر سوچے سمجھے اپنے طریقے میں تبدیلی نہ کریں، بلکہ اپنے تجربات پر بھروسا رکھیں۔
طالب علم کا سوال: جو رہ جاتا ہے، اسے کیسے پورا کریں؟
ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے اساتذہ کو خصوصی مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ استاد کو ہمیشہ طلبہ کی رفتار سے صرف ایک قدم آگے رہنا چاہیے۔ اتنا آگے کہ طالب علم کی پہنچ میں ہو مگر گرفت میں نہ ہو۔ اگر استاد بہت زیادہ آگے نکل جائے تو طالب علم کو لگتا ہے کہ وہ پیچھے رہ گیا ہے۔ وزیر اعظم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنوری کے تیسرے ہفتے میں تاریخ کا کوئی سبق پڑھانا ہو تو استاد پہلے ہی بتا دے کہ پہلے ہفتے میں کیا پڑھایا جائے گا، دوسرے ہفتے میں کیا، اور تیسرے ہفتے میں کیا۔ ساتھ ہی طلبہ سے کہا جائے کہ استاد کے پڑھانے سے پہلے ہی اس موضوع کا مطالعہ شروع کر دیں، تاکہ کلاس میں سبق مزید آسانی سے سمجھ میں آئے۔پریکشا پہ چرچا 2026 کے اس سیشن میں وزیر اعظم کے پیغامات نے طلبہ کو نہ صرف امتحانات کے لیے ذہنی طور پر مضبوط کیا بلکہ زندگی میں توازن، اعتماد اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت کو بھی واضخ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


