نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کی رہائشگاہ پر مبینہ حملے کے بارے میں رپورٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ روسی حکام کے مطابق یہ حملہ یوکرین نے کیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے لکھا: ’’روس کے صدر کی رہائشگاہ پر مبینہ حملے کی رپورٹس سے گہری تشویش ہے۔ جاری سفارتی کوششیں جارحیت کو ختم کرنے اور امن قائم کرنے کا سب سے قابل عمل راستہ فراہم کرتی ہیں۔ ہم تمام متعلقہ فریقین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کوششوں پر مرکوز رہیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
Deeply concerned by reports of the targeting of the residence of the President of the Russian Federation. Ongoing diplomatic efforts offer the most viable path toward ending hostilities and achieving peace. We urge all concerned to remain focused on these efforts and to avoid any…
— Narendra Modi (@narendramodi) December 30, 2025
روسی ردعمل اور الزامات
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بتایا کہ یوکرین نے نووگورود ریجن میں صدر پوتن کی ریاستی رہائشگاہ پر 91 ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، تاہم تمام ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا گیا اور کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ لاوروف نے مزید کہا کہ ماسکو اس حملے کا جواب دے گا اور جواب کے اہداف اور وقت پہلے ہی مقرر کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، مگر اس واقعے کے بعد ماسکو اپنی سفارتی پالیسی کا جائزہ لے گا۔
یوکرین کی تردید
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی دعوؤں کو ’’جعلی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ زیلنسکی نے پوسٹ میں کہا: ’’یہ دعویٰ ایک مکمل جعل سازی ہے جس کا مقصد یوکرین پر مزید حملوں کے جواز فراہم کرنا اور روس کو جنگ ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے روکنا ہے۔ یہ روس کی عام جھوٹ ہے۔‘‘
بین الاقوامی کوششیں
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مار-اے-لاگو رہائش گاہ میں یوکرینی صدر کی میزبانی کی، جس کا مقصد چار سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات کو آگے بڑھانا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




