Bharat Express DD Free Dish

NEET Student rape murder case: دو گھنٹے تک درندوں سے لڑتی رہی پٹنہ کی بیٹی! روح کو لرزا دے گی نیٹ طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ

دو گھنٹے تک درندگی، گردن اور کندھے کے آس پاس ناخنوں کے زخم، سینے اور کندھے کے نیچے خراشیں، نجی حصوں پر چوٹیں اور خون بہنا—یہ تفصیلات پٹنہ میں نیٹ کی طالبہ کے ساتھ پیش آئے عصمت دری کے معاملے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔

دو گھنٹے تک درندگی، گردن اور کندھوں کے آس پاس ناخنوں کے گہرے زخم، سینے اور کندھے کے نیچے خراشیں، نجی حصوں میں چوٹیں اور خون بہنا—یہ تمام تفصیلات پٹنہ میں نیٹ (NEET) کی طالبہ کے ساتھ پیش آئے عصمت دری کے معاملے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عصمت دری کے دوران طالبہ کافی دیر تک حملہ آوروں سے لڑتی رہی۔ جس نیٹ طالبہ کی موت کو پولیس ابتدا میں خودکشی قرار دے رہی تھی، اس معاملے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ایک بڑا موڑ لا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبہ تقریباً دو گھنٹے تک درندگی کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرتی رہی۔ نجی حصوں میں چوٹوں کے حوالے سے رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس واردات میں ایک سے زائد افراد شامل ہو سکتے ہیں۔ اب پولیس نے بھی طالبہ کے ساتھ عصمت دری کی بات تسلیم کر لی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟

نیٹ طالبہ عصمت دری کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پولیس کے ابتدائی تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبہ کے ساتھ شدید زبردستی کی گئی۔ گردن اور کندھوں کے اطراف ناخنوں کے گہرے نشان پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹھ پر نیل کے نشانات ہیں، جو کسی سخت سطح سے رگڑ لگنے کے سبب ہوتے ہیں۔ سینے اور کندھے کے نیچے بھی خراشوں کے نشان ملے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ طالبہ کے نجی حصوں میں تازہ چوٹیں ہیں، جو عصمت دری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبہ عصمت دری کے دوران بے ہوش نہیں ہوئی بلکہ اس نے خود کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔

پولیس کے بیان پر سوالات

طالبہ کی موت کے حوالے سے پولیس نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ابتدائی جانچ میں عصمت دری کے شواہد نہیں ملے اور متوفیہ کی موبائل ہسٹری کے مطابق وہ ڈپریشن میں تھی۔ پولیس کے مطابق طالبہ انہیں بے ہوشی کی حالت میں ملی تھی اور بظاہر کسی بیرونی تشدد کے آثار واضح نہیں تھے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جواب

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبہ کے جسم پر درجنوں زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں، جو عصمت دری کے وقت کے ہیں۔ گردن، کندھوں اور پیٹھ پر خراشیں موجود ہیں، جو براہِ راست عصمت دری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ادھر، خاندان نے الزام لگایا ہے کہ ہاسٹل کے منتظم نے معاملہ دبانے کے لیے پیسوں کی پیشکش کی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read