نئی دہلی: دہلی قانون ساز اسمبلی کا تاریخی ایوان نئی نسل کی آوازوں سے گونج اٹھا، جب راشٹریہ پریاورن بال سنسد 2026 (قومی ماحولیاتی بچہ پارلیمان) میں آٹھویں سے بارہویں جماعت تک کے اسکولی طلبہ ملک کے اہم ترین ماحولیاتی چیلنجوں پر غور و خوض کے لیے یکجا ہوئے۔ ارکانِ اسمبلی کی نشستوں پر براجمان ان ننھے پارلیمنٹیرینز نے ایوان کو آلودگی، آبی تحفظ، سبز علاقوں اور پائیدار ترقی پر جاندار مکالمے کے پلیٹ فارم میں بدل دیا۔
پریاورن سنرکشن گتی ودھی (PSG) کے زیرِ اہتمام اور مانو رچنا ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کی قومی میزبانی میں منعقدہ اس پروگرام نے ماحولیاتی تعلیم کو کتابوں اور کلاس روم کی چار دیواری سے باہر نکالا۔ طلبہ کو پارلیمانی طریقۂ کار، شواہد پر مبنی بحث اور پالیسی سے متعلق سفارشات مرتب کرنے کا براہِ راست تجربہ حاصل ہوا۔ پروگرام کا موضوع تھا: «آگہی سے عمل تک: آج بوئیں گے، کل اگائیں گے۔»
تقریب میں دہلی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا، ڈپٹی اسپیکر موہن سنگھ بشٹ اور پریاورن سنرکشن گتی ودھی کے قومی کنوینر گوپال جی آریہ کے ساتھ متعدد عوامی نمائندے، ماحولیاتی کارکن اور معززین موجود تھے۔ بال سنسد ایک منظم، کثیر سطحی سفر کا نقطۂ عروج تھی۔ طلبہ اسکول سطح کے مقابلوں اور علاقائی آن لائن مباحثوں کے مراحل طے کر کے قومی سطح کی پارلیمانی مشق تک پہنچے، جہاں انہوں نے مختلف آرا کو پرکھا اور دکھایا کہ باخبر نوجوان شہری ماحولیاتی مکالمے کو کتنا ثروت مند بنا سکتے ہیں۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وجیندر گپتا نے ان کے حقائق پر مبنی دلائل اور منظم طرزِ عمل کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی مکالمے اور معقول بحث کا فورم ہے، جہاں اپنی بات رکھنے کے ساتھ دوسروں کو سننا اور سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کو انسانی فلاح اور آنے والی نسلوں کے معیارِ زندگی سے جوڑتے ہوئے انہوں نے درختوں، صاف ہوا، وافر پانی اور سبز علاقوں کی اہمیت اجاگر کی، اور طلبہ سے کہا کہ وہ تجسس برقرار رکھیں، سوال پوچھتے رہیں اور اپنا علم و توانائی قوم کی تعمیر میں صرف کریں۔

روایتی ماحولیاتی دانش اور عملی حل کا حسین امتزاج پیش کرتے ہوئے گوپال جی آریہ نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ تقریروں، مہموں اور پالیسی مباحث تک محدود نہیں رہنا چاہیے؛ اسے فرد کے طرزِ عمل اور روزمرہ طرزِ زندگی میں اترنا ہوگا۔ ہندوستانی فکر کے پنچ مہابھوت — پرتھوی (زمین)، جل (پانی)، وایو (ہوا)، اگنی (توانائی) اور آکاش (خلا) — کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سمجھایا کہ جس ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں، جو پانی پیتے ہیں اور جو غذا کھاتے ہیں، وہ سب فطرت سے جڑی ہے۔ دلچسپ کہانیوں اور سادہ مثالوں کے ذریعے انہوں نے بچوں کو سکھایا کہ ماحولیات کو سمجھ لینا پہلا قدم ہے، اصل امتحان اسے گھر، اسکول اور سماج میں اپنانے کا ہے۔

گوپال جی آریہ نے سادہ اور قابلِ پیمائش اقدامات تجویز کیے — گھر میں بجلی کا استعمال کم کرنا، گیلے کچرے کا مناسب انتظام، پلاسٹک کو ماحول میں جانے سے روکنا، روزمرہ کاموں میں پانی بچانا اور ری سائیکل شدہ کاغذ کا استعمال۔ انہوں نے کہا کہ بامعنی تبدیلی کے لیے نہ بھاری سرمایہ درکار ہے نہ بڑا ڈھانچہ؛ بچے اپنے گھروں کا ماحولیاتی خود احتسابی جائزہ لیں۔ سمندر کو قطرہ قطرہ خالی کرنے نکلی ننھی چڑیا کی کہانی کے ذریعے انہوں نے انفرادی پہل اور اجتماعی ذمہ داری کا متاثر کن پیغام دیا، اور بچوں سے کہا کہ شک و شبہ یا اپنی کوشش کو چھوٹا سمجھ کر مایوس نہ ہوں، بلکہ اپنے عمل سے دوسروں کو تحریک دیں۔

مباحثوں کا محور ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں کا تحفظ، بارش کے پانی کا ذخیرہ، پائیدار شہری نقل و حمل، قابلِ تجدید توانائی اور ماحولیاتی شفافیت جیسے موضوعات رہے۔ طلبہ مسائل گنوانے سے آگے بڑھ کر حل تجویز کرتے نظر آئے؛ انہوں نے تحقیق اور دلیل سے اپنی بات مضبوط کی اور مخالف آرا کا احترام کے ساتھ سامنا کیا۔ موسمیاتی تبدیلی، آبی قلت، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ جیسے عصری خدشات میں ہندوستانی روایتی ماحولیاتی نقطۂ نظر کی معنویت بھی اجاگر ہوئی۔

شرکا کو ان کے علم، تحقیق، اظہار کی صلاحیت اور کارکردگی پر اعزاز سے نوازا گیا۔ ہریت نونکر، بال سنسد چینج میکر، بہترین مقرر، بہترین پارلیمنٹیرین، بال محقق، بہترین صحافی اور بال سنسد آئیکن کے زمروں میں انعامات دیے گئے، جو پہل، اعتماد اور ماحولیاتی عزم کا جشن تھے۔
دن کا مرکزی پیغام واضح تھا — ماحولیاتی ذمہ داری کا آغاز آگہی سے ہوتا ہے، مگر اسے معنویت عمل سے ملتی ہے۔ ننھے شرکا کو ترغیب دی گئی کہ وہ بال سنسد کی روح کو ایوان سے نکال کر اپنے گھروں، اسکولوں اور محلوں تک لے جائیں — وسائل کا تحفظ کریں، پائیدار عادتیں اپنائیں اور ساتھیوں اور خاندانوں کو تحریک دیتے ہوئے صاف ستھرے، سرسبز اور پائیدار مستقبل کی جانب بڑھیں۔
راشٹریہ پریاورن بال سنسد کے بارے میں
راشٹریہ پریاورن بال سنسد پریاورن سنرکشن گتی ودھی کی پارلیمانی طرز کی ملک گیر پہل ہے، جو مانو رچنا ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کی قومی میزبانی میں منعقد ہوتی ہے۔ آٹھویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے ترتیب دی گئی یہ پہل ماحولیاتی مباحث، تحقیق اور پارلیمانی غور و فکر کو یکجا کر کے تنقیدی سوچ، اظہار کی صلاحیت، قیادت اور جمہوری شرکت کو نکھارتی ہے اور نوجوان شہریوں کو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی میں بامعنی کردار کے لیے بااختیار بناتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
