Bharat Express DD Free Dish

Impeachment Notice Against CEC: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کا نوٹس: کیا ہے معاملہ؟

اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹس دیا تھا، 130 لوک سبھا اور 63 راجیہ سبھا ارکان نے دستخط کیے تھے؛ دونوں ایوانوں کے پریزائیڈنگ افسران نے اپریل میں نوٹس مسترد کردیا

ہندوستان کے جمہوری نظام میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی اہم ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا عمل بھی عام سرکاری عہدے داروں سے مختلف اور آئینی طور پر سخت شرائط سے مشروط ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن نے مارچ 2026 میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک کا نوٹس دیا تھا۔اس نوٹس پر لوک سبھا کے 130 اور راجیہ سبھا کے 63 ارکان نے دستخط کیے تھے۔ قواعد کے مطابق لوک سبھا میں کم از کم 100 اور راجیہ سبھا میں 50 ارکان کے دستخط درکار ہوتے ہیں۔

اپوزیشن نے کیا الزامات لگائے تھے؟

اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے 10 صفحات کے نوٹس میں گیانیش کمار کے خلاف 7 نکات پر مشتمل الزامات شامل تھے۔ ان میں انتخابی امور میں مبینہ جانبدارانہ اور امتیازی رویے، انتخابی دھاندلی سے متعلق تحقیقات میں مبینہ رکاوٹ اور ووٹروں کو بڑے پیمانے پر حق رائے دہی سے محروم کیے جانے جیسے الزامات شامل تھے۔ اپوزیشن نے خاص طور پر ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، سے متعلق معاملات پر سوال اٹھائے تھے۔ اپوزیشن کا دعویٰ تھا کہ اس عمل سے متعدد ووٹر متاثر ہوئے۔یہ تمام الزامات اپوزیشن کی جانب سے عائد کیے گئے تھے اور انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹس کے لیے کتنے ارکان کی ضرورت ہوتی ہے؟

چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا آئینی طریقہ سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقے سے منسلک ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو صرف ثابت شدہ بدعنوانی یا نااہلی کی بنیاد پر مقررہ پارلیمانی عمل کے ذریعے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ تحریک شروع کرنے کے لیے لوک سبھا میں کم از کم 100 ارکان اور راجیہ سبھا میں کم از کم 50 ارکان کے دستخط ضروری ہیں۔ اس کے بعد متعلقہ ایوان کے اسپیکر یا چیئرمین یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ نوٹس کو منظور کیا جائے یا مسترد۔

مارچ والے نوٹس کا کیا ہوا؟

مارچ میں دیے گئے نوٹس پر مطلوبہ تعداد سے زیادہ ارکان کے دستخط ہونے کے باوجود یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن نے اپریل میں الگ الگ احکامات کے ذریعے اس نوٹس کو منظور کرنے سے انکار کردیا۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ کے مطابق 12 مارچ 2026 کے نوٹس پر 130 ارکان کے دستخط تھے، جبکہ راجیہ سبھا کے نوٹس پر 63 ارکان کے دستخط تھے۔ دونوں نوٹس پر غور کے بعد انہیں داخل کرنے سے انکار کردیا گیا۔

اب ستمبر میں کیا نیا معاملہ ہے؟

ستمبر 2026 میں اپوزیشن کی جانب سے گیانیش کمار کو ہٹانے کے لیے ایک نئے نوٹس کی تیاری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس بار بھی تحریک دونوں ایوانوں میں لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت الیکشن کمیشن کے اندر بعض فیصلوں اور ایس آئی آر سے متعلق اختلافات پر جاری سیاسی تنازع کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں کو متفقہ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن ان معاملات پر سوالات اٹھا رہی ہے۔اس لیے مارچ کے پرانے نوٹس اور ستمبر میں زیرِ تیاری نئے نوٹس کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ مارچ کا نوٹس پہلے ہی مسترد ہوچکا ہے، جبکہ ستمبر میں نئے اقدام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

    Tags:

Also Read