Bharat Express DD Free Dish

Operation Brahma: آپریشن برہما: بھارت نے زلزلہ زدہ میانمار میں امدادی ٹیمیں بھیجیں، پھنسے ہوئے 170 راہبوں کو بچانے کا کام شروع

آپریشن برہما کے تحت بھارت کی فوری امدادی کوششیں نہ صرف میانمار کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ خطے میں اس کی “فرسٹ ریسپانڈر” کی حیثیت کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔

آج کی تاریخ یکم اپریل 2025 ہے، اور ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت نے میانمار میں 7.7 شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد “آپریشن برہما” کے تحت امدادی اور بچاؤ ٹیمیں بھیج کر اپنے پڑوسی ملک کی مدد شروع کر دی ہے۔ اس زلزلے نے میانمار اور تھائی لینڈ کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں 1,700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، ہزاروں زخمی ہوئے، اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ بھارت کی نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF) نے میانمار کے ‘یو ہلا تھین’ موناسٹری میں پھنسے ہوئے تقریباً 170 راہبوں کو بچانے کا کام شروع کر دیا ہے، جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

زلزلے کی تباہی اور ابتدائی ردعمل

28 مارچ 2025 کو میانمار کے وسطی علاقے ساگین (Sagaing) کے قریب 7.7 شدت کا زلزہ آیا، جو گزشتہ ایک صدی میں اس ملک کا سب سے شدید زلزلہ تھا۔ اس زلزلے کے جھٹکے میانمار کے دارالحکومت نیپی ٹا (Nay Pyi Taw)، تاریخی شہر منڈالے (Mandalay)، اور یہاں تک کہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک اور چین کے کچھ صوبوں تک محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں منہدم ہوئیں، پل گر گئے، اور بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ میانمار کی فوجی حکومت کے مطابق، اب تک 1,700 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ 3,400 کے قریب افراد زخمی ہیں، اور 300 سے زائد لاپتہ ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے ابتدائی ماڈلنگ کی بنیاد پر اندازہ لگایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر سکتی ہے۔

بنکاک میں زلزلے کے اثرات بھی شدید تھے، جہاں ایک زیر تعمیر بلند عمارت گرنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے، اور درجنوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ میانمار کے منڈالے میں ‘اسکائی ولا’ نامی رہائشی کمپلیکس، جہاں چار 11 منزلہ ٹاورز تھیں، مکمل طور پر منہدم ہو گیا، اور وہاں سے 44 افراد کو زندہ نکالا گیا، جبکہ 9 کی موت کی تصدیق ہوئی۔ اسی طرح، منڈالے کے مہا مونی پاگوڈا، منڈالے پیلس، اور دیگر تاریخی مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

آپریشن برہما: بھارت کا ردعمل

زلزلے کے فوراً بعد، بھارت نے اپنی ‘نیبرہڈ فرسٹ’ پالیسی کے تحت میانمار کی مدد کے لیے “آپریشن برہما” شروع کیا۔ یہ نام ہندو دیوتا برہما سے ماخوذ ہے، جو تخلیق کے دیوتا ہیں، اور اس سے بھارت کی اس مشکل وقت میں میانمار کی تعمیر نو میں مدد کرنے کی علامتی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے میانمار کی فوجی قیادت کے سربراہ جنرل من آنگ ہلینگ سے بات کی اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ مودی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، “بطور قریبی دوست اور پڑوسی، بھارت اس مشکل وقت میں میانمار کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔”

امدادی سرگرمیاں

NDRF کی تعیناتی:

بھارت نے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF) کی ایک 80 رکنی ٹیم میانمار کے دارالحکومت نیپی ٹا بھیجی، جو 29 مارچ کی رات وہاں پہنچی۔ یہ ٹیم کنکریٹ کٹر، ڈرل مشینیں، پلازما کٹنگ مشینیں، اور تربیت یافتہ کتوں کے ساتھ لیس ہے، جو ملبے میں پھنسے ہوئے افراد کی تلاش کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

NDRF نے ‘یو ہلا تھین’ موناسٹری میں بچاؤ کا کام شروع کیا، جہاں 170 راہب پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسکائی ولا کمپلیکس میں بھی بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں، جہاں کئی غیر ملکیوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

NDRF کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) محسن شاہدی نے کہا کہ اگلے 24-48 گھنٹے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

امدادی سامان:

بھارت نے اب تک 157 ٹن امدادی سامان میانمار بھیجا ہے، جس میں خیمے، کمبل، سلیپنگ بیگ، تیار کھانے کے پیکٹ، واٹر پیوریفائر، سولر لیمپ، جنریٹر سیٹ، اور ضروری ادویات شامل ہیں۔

29 مارچ کو ایک C-130J طیارے کے ذریعے 15 ٹن امدادی سامان یانگون پہنچایا گیا، جسے بھارتی سفیر ابھے ٹھاکر نے یانگون کے چیف منسٹر یو سو تھین کے حوالے کیا۔

30 مارچ کو مزید دو C-17 گلوب ماسٹر طیاروں کے ذریعے 60 ٹن امدادی سامان اور 118 رکنی فوجی فیلڈ ہسپتال یونٹ میانمار پہنچایا گیا۔ کل پانچ امدادی پروازوں نے میانمار میں امدادی سامان پہنچایا۔

فوجی فیلڈ ہسپتال:

بھارتی فوج کی 50 (I) پیرا بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے 118 رکنی فیلڈ ہسپتال یونٹ کو منڈالے میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس یونٹ میں خواتین اور بچوں کی دیکھ بھال کے ماہرین بھی شامل ہیں۔

یہ یونٹ منڈالے میں 60 بستروں کا ایک میڈیکل ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کر رہا ہے، جو ایمرجنسی سرجری، ٹراما علاج، اور عمومی طبی خدمات فراہم کرے گا۔ یہ ٹیم لیفٹیننٹ کرنل جگجیت گل کی قیادت میں کام کر رہی ہے۔

بحری امداد:

بھارتی بحریہ کے دو جہاز، INS سَتپُڑا اور INS ساوتری، 40 ٹن امدادی سامان لے کر یانگون کے لیے روانہ ہوئے، جو 31 مارچ کو وہاں پہنچے۔ مزید دو جہاز، جو انڈمان اینڈ نکوبار کمانڈ کے سری وجیا پورم سے روانہ ہوئے، جلد ہی یانگون پہنچیں گے۔

ان جہازوں میں 52 ٹن امدادی سامان شامل ہے، جس میں بنیادی لباس، پینے کا پانی، کھانا، ادویات، اور ایمرجنسی سامان شامل ہے۔

بھارت کی “فرسٹ ریسپانڈر” پالیسی

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت کی پالیسی ہے کہ وہ خطے میں قدرتی آفات کے دوران “فرسٹ ریسپانڈر” کے طور پر کام کرے۔ انہوں نے کہا، “جب ہم کہتے ہیں کہ دنیا ایک خاندان ہے (وسودھیو کٹمبکم)، تو ہم اسے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔” بھارت نے ماضی میں بھی اس طرح کی امدادی کارروائیاں کی ہیں، جیسے کہ 2015 کے نیپال زلزلے اور 2023 کے ترکی زلزلے کے دوران “آپریشن دوست” کے تحت امداد فراہم کی تھی۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کوششیں

یو ہلا تھین موناسٹری: NDRF کی ٹیمیں یہاں 170 راہبوں کو بچانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہ موناسٹری زلزلے سے شدید متاثر ہوئی، اور راہبوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔

اسکائی ولا کمپلیکس: منڈالے میں اس کمپلیکس کے چار 11 منزلہ ٹاورز مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ یہاں سے 44 افراد کو زندہ نکالا گیا، لیکن اب بھی کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک 35 سالہ حاملہ خاتون، ماتھو تھو لوئن، کو 55 گھنٹوں کے بعد ملبے سے نکالا گیا، لیکن وہ بچ نہ سکی۔

مہانایک کمیٹی: میانمار کی دوسری سب سے بڑی مذہبی کمیٹی، مہانایک کمیٹی کے سیکرٹری جنرل کو امدادی سامان فراہم کیا جائے گا، جہاں 2,000 راہب کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔ یہ راہب زخمی نہیں ہیں، لیکن ان کے پاس رہنے کی جگہ اور بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔

منڈالے کے دیگر مقامات: NDRF کی ٹیمیں منڈالے پیلس، مہا مونی پاگوڈا، اور دیگر متاثرہ مقامات پر بھی تعینات کی جائیں گی، جہاں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

عالمی ردعمل

بھارت کے علاوہ دیگر ممالک بھی میانمار کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں:

چین: چین نے 13.8 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا اور 82 بچاؤ اہلکار بھیجے ہیں۔ ہانگ کانگ سے 51 اہلکار، دو بچاؤ کتے، اور 9 ٹن سامان بھی میانمار پہنچایا گیا۔

برطانیہ: برطانیہ نے 12.9 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO): WHO نے نیپی ٹا اور منڈالے کے ہسپتالوں کو تقریباً تین ٹن طبی سامان فراہم کیا ہے۔

بھارتی کمیونٹی کی صورتحال

میانمار میں تقریباً 50 سے 60 ہزار بھارتی شہری مقیم ہیں، جبکہ بھارتی نژاد افراد کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، اب تک بھارتی شہریوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بھارتی سفارتخانہ مقامی بھارتی کمیونٹی کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان کے لیے رہائش اور خوراک کا انتظام کر رہا ہے۔ سفارتخانہ نے ایک ایمرجنسی نمبر (+95-95419602) بھی جاری کیا ہے، جس پر ضرورت مند بھارتی شہری رابطہ کر سکتے ہیں۔

چیلنجز اور تنقیدی جائزہ

اگرچہ بھارت کی امدادی کوششیں قابل تحسین ہیں، لیکن کچھ چیلنجز اور سوالات بھی سامنے آتے ہیں:

رسائی کے مسائل: زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک رسائی مشکل ہے، کیونکہ نیپی ٹا ایئرپورٹ مکمل طور پر فعال نہیں ہے، اور زمینی راستوں پر بھی نقصانات کی وجہ سے رکاوٹیں ہیں۔ ساگین کا علاقہ، جہاں زلزلے کا مرکز تھا، جزوی طور پر باغی گروہوں کے کنٹرول میں ہے، جو امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

سیاسی پیچیدگیاں: میانمار میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے امدادی کارروائیاں پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔ بھارت نے فی الحال میانمار کی فوجی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، لیکن باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں تک امداد پہنچانے کے بارے میں اب تک کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔

طویل مدتی بحالی: فوری امداد کے بعد، میانمار کو طویل مدتی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ بھارت کو اس مرحلے میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہوگی، خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی کے لیے۔

آپریشن برہما کے تحت بھارت کی فوری امدادی کوششیں نہ صرف میانمار کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ خطے میں اس کی “فرسٹ ریسپانڈر” کی حیثیت کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ 157 ٹن امدادی سامان، NDRF کی تعیناتی، فوجی فیلڈ ہسپتال، اور بحری امداد کے ذریعے بھارت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہے۔ تاہم، میانمار کی پیچیدہ سیاسی صورتحال اور متاثرہ علاقوں تک رسائی کے مسائل طویل مدتی امدادی کوششوں کے لیے چیلنجز پیش کر سکتے ہیں۔ اگر بھارت ان چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف میانمار کے عوام کے لیے ایک بڑی مدد ہوگا بلکہ خطے میں بھارت کی سفارتی ساکھ کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read