کزاخستان کے شہر اوسکیمن سے ایک بری خبر سامنے آئی ہے۔ التائی کی پہاڑیوں میں پیش آنے والے ایک افسوسناک سڑک حادثے میں ایک ہندوستانی طالب علم کی موت ہوگئی جبکہ دو دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ اطلاع کزاخستان میں واقع بھارتی سفارت خانے نے منگل کے روزدی۔ بھارتی سفارت خانے کے مطابق، سیمی میڈیکل یونیورسٹی کے 11 بھارتی طلبہ مشرقی کزاخستان کے التائی پہاڑوں کی سیر کے بعد واپس اوسکیمن شہر لوٹ رہے تھے، اسی دوران ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی۔
ایک طالب علم جاں بحق، دو زخمی
حادثے کے نتیجے میں ملی موہن (تاریخ پیدائش: 17 اپریل 2000) نامی طالب علم جاں بحق ہوگیا، جبکہ آشیكا شیجامنی سنتوش اور جسینابی زخمی ہوئے ہیں۔ سفارت خانے نے بتایا کہ دونوں زخمی طلبہ کو اوسکیمن (کامیناگورسک) کے سٹی ہاسپٹل نمبر 1 میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔
بھارتی سفارت خانے کا تعزیتی بیان
بھارتی سفارت خانے نے متوفی طالب علم کے اہل خانہ سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانہ اس مشکل وقت میں خاندان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ سفارت خانہ یونیورسٹی انتظامیہ، اسپتال حکام اور طلبہ کے اہل خانہ کے مسلسل رابطے میں ہے۔
In a tragic accident in Oskemen, a group of 11 Indian students of Semey Medical University who were on a excursion trip to Altai Alps in East Kazakhstan from Oskemen City, met with an accident on their way back. Following the incident, one student, namely, Mili Mohan (DOB…
— IndiaInKazakhstan (@indembastana) January 13, 2026
التائی پہاڑوں کا تعارف
التائی پہاڑ وسطی ایشیا کا ایک مشہور پہاڑی سلسلہ ہے جو روس، چین، منگولیا اور کزاخستان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ اپنی دلکش قدرتی مناظر، بلند چوٹیوں جن میں ماؤنٹ بیلوخا نمایاں ہے اور حیاتیاتی تنوع کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہی خطہ اوب اور ارتیش جیسی بڑی ندیوں کا منبع بھی ہے۔ التائی کے بعض حصوں کو ان کے منفرد ماحولیاتی نظام اور ثقافتی اہمیت کے باعث یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


