کانوڑ یاترا کے اختتام کے باوجود ہری دوار میں شردھالوؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ساون کے تیسرے سوموار کے موقع پر شہر میں شیو بھکتوں کی بڑی تعداد کے پہنچنے کی توقع ہے۔ اس دوران نرنجن پیٹھادھیشور آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاش آنند گری مہاراج کی بھکتی سادھنا اور ان کے درشن و آشیرواد کے لیے شردھالوؤں میں خاصا جوش دیکھا جا رہا ہے۔ کانوڑ یاترا کے دوران ہری دوار میں شردھالوؤں کی بڑی بھیڑ دیکھنے کو ملی تھی اور اب ساون کے تیسرے سوموار پر بھی بڑی تعداد میں شیو بھکتوں کے شہر پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ شردھالوؤں کی توجہ کا ایک اہم مرکز سوامی کیلاش آنند گری مہاراج کی 22 گھنٹے جاری رہنے والی سخت سادھنا ہے، جو دکشن کالی مندر میں واقع ان کے آشرم میں کی جا رہی ہے۔ شردھالو اس بھکتی سادھنا کو دیکھنے اور سوامی کیلاش آنند گری مہاراج کا آشیرواد حاصل کرنے کے لیے خاصی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کی سخت سادھنا خاموشی، نظم و ضبط اور بھگوان شیو کے تئیں گہری عقیدت پر مبنی ہے، جس نے بھارت کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سناتن ثقافت سے وابستہ شردھالوؤں کی بھی توجہ حاصل کی ہے۔سوامی کیلاش آنند گری مہاراج کی سادھنا ان دنوں شردھالوؤں کے درمیان گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ بہت سے شردھالو اس مزہبی مشق اور نظم و ضبط کے تئیں وابستگی کو تحریک کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔
گنگا اسنان اور شیو ابھیشیک کے لیے امڈیں گے شردھالو
ساون کے تیسرے سوموار کے موقع پر ہری دوار میں گنگا اسنان، بھگوان شیو کا جل ابھیشیک اور سوامی کیلاش آنند گری مہاراج کے درشن و آشیرواد کے لیے بڑی تعداد میں شردھالوؤں کے جمع ہونے کی توقع ہے۔ کانوڑ یاترا کے اختتام کے باوجود ہری دوار کی مذہبی کشش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ساون کے تیسرے سوموار کے قریب آتے ہی شہر ایک بار پھر مذہبی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔ اسی دوران کیلاش آنند گری مہاراج کی جاری سادھنا نے بھی تیرتھ نگری آنے والے شردھالوؤں کے لیے ایک اور اہم کشش پیدا کر دی ہے۔ گنگا اسنان، شیو ابھیشیک اور سنت کے درشن و آشیرواد کے لیے آنے والے شردھالوؤں کے باعث ہری دوار میں مذہبی جوش و خروش مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


