نئی دہلی: ملک بھر میں بدھ کے روز پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے والے سب سے سفاک حملوں میں شمار اس واقعے میں پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے مذہب کی پہچان کرنے کے بعد 26 بے گناہ سیاحوں کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی سازش یا غلط حرکت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
فوج کا سخت پیغام اور سوشل میڈیا پوسٹ
بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’بھارت کے خلاف کیے گئے اقدامات کا جواب ضرور ملے گا، انصاف ہو کر رہے گا، ہمیشہ۔‘‘ اس بیان کے ساتھ فوج نے اپنے عزم کو واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
’آپریشن مہادیو‘ کی جھلک
فوج نے ’آپریشن مہادیو‘ سے متعلق ایک تصویر بھی شیئر کی، جس پر سرخ رنگ میں ٹیگ لائن درج تھی: ’’یہ تو بس وقت کی بات تھی۔‘‘ یہ تصویر اس بڑے تلاشی آپریشن اور دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں حملے کے ذمہ دار عناصر کو ہلاک کیا گیا تھا۔
آپریشن مہادیو کی تفصیلات
22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے حملے کے فوراً بعد ’آپریشن مہادیو‘ شروع کیا گیا تھا۔ اس کے تحت دچی گام/مہادیو رِج کے قریب ہمالیہ کے دشوار گزار علاقوں میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن چلایا گیا۔ اس کارروائی کے دوران حملے میں ملوث تین کلیدی دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔
93 دن کا وسیع فوجی آپریشن
بھارتی مسلح افواج نے 93 دنوں تک 300 مربع کلومیٹر سے زائد خطرناک علاقے میں تلاشی مہم جاری رکھی اور بالآخر دہشت گردوں کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ آپریشن فوج کی مستقل مزاجی اور حکمت عملی کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپریشن سندور اور برسی سے قبل انتباہ
’آپریشن سندور‘ کی برسی سے ایک دن قبل بھارتی فوج نے انصاف کے لیے اپنی وابستگی کو دہراتے ہوئے ایک سخت وارننگ جاری کی۔ فوج نے کہا، ’’جب ’انسانیت کی حدیں‘ پار کی جاتی ہیں تو جواب فیصلہ کن ہوتا ہے۔ انصاف ملتا ہے۔ بھارت متحد ہے۔‘‘
تصویری پیغام اور قومی عزم
فوج کی جانب سے شیئر کی گئی ایک اور تصویر میں لکھا تھا، ’’کچھ حدیں کبھی پار نہیں کی جانی چاہئیں۔‘‘ اس میں بھارت کا نقشہ دکھایا گیا تھا جس پر سرخ ’سندور‘ لگا تھا، جو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی علامت ہے۔ ساتھ ہی پیغام دیا گیا، ’’بھارت بھولتا نہیں ہے‘‘، جو قومی یکجہتی اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
حملے کی تفصیل اور سفاکیت
پہلگام حملہ 22 اپریل 2025 کو پیش آیا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ دی رزسٹنس فرنٹ نے کیا تھا، جو پاکستان میں قائم لشکر طیبہ کا ایک ذیلی گروپ سمجھا جاتا ہے۔ حملہ آوروں نے متاثرین سے ان کا مذہب پوچھ کر انہیں الگ کیا اور غیر مسلم افراد کی شناخت کے لیے انہیں اسلامی کلمہ پڑھنے پر مجبور کیا۔ ہلاک افراد میں 25 سیاح اور ایک مقامی ٹٹو چلانے والا شامل تھا، جس نے سیاحوں کو بچانے کی کوشش کی تھی۔
جوابی کارروائی: آپریشن سندور
اس حملے کے جواب میں بھارتی مسلح افواج نے 6 اور 7 مئی کو ’آپریشن سندور‘ شروع کیا۔ حکام کے مطابق یہ ایک محدود، منظم اور کشیدگی کو نہ بڑھانے والا فوجی آپریشن تھا، جس کا ہدف پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود دہشت گردوں کے بڑے ٹھکانے تھے۔
سرحدی کشیدگی اور جنگ بندی
اس آپریشن کے بعد ایک ہفتے تک پاکستان کی جانب سے ڈرون حملوں اور گولہ باری کے ذریعے ردعمل سامنے آیا، جس میں شہری علاقوں، مذہبی مقامات اور اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جواب میں بھارت نے بھی کارروائیاں کیں، جن میں لاہور اور گوجرانوالہ کے قریب فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بالآخر بھاری نقصان کے بعد پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں 10 مئی 2025 کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


