اڈانی گروپ اب صرف بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں تک محدود نہیں ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حکومت والی ریاستوں میں بھی گروپ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ سڑک، بندرگاہ، توانائی، سیمنٹ، ڈیٹا سینٹر اور ہوائی اڈوں سے متعلق ان منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 5 لاکھ کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
کرناٹک میں سرنگ منصوبہ
بنگلورو میں ٹریفک کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے مجوزہ 16.75 کلومیٹر طویل سرنگ منصوبے میں اڈانی انٹرپرائزز نے سب سے کم بولی لگائی ہے۔ کمپنی نے 22,267 کروڑ روپے کی بولی پیش کی ہے، جو دوسرے سب سے کم بولی دہندہ سے تقریباً 3,500 کروڑ روپے کم ہے۔ تاہم، ابھی معاہدہ حتمی نہیں ہوا ہے۔ اڈانی گروپ پہلے ہی کرناٹک میں اڈوپی پاور پلانٹ اور منگلورو ایئرپورٹ جیسے منصوبے چلا رہا ہے۔
کیرالہ میں وِزِنجم بندرگاہ
کیرالہ میں اڈانی پورٹس نے وِزِنجم انٹرنیشنل سی پورٹ تیار کیا ہے۔ جنوری 2026 میں اس کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا، جس میں مزید 16,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اس کے ساتھ بندرگاہ میں گروپ کی مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 30,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی ترواننت پورم ایئرپورٹ اور کوچی میں 600 کروڑ روپے کی لاگت سے لاجسٹکس پارک بھی تیار کر رہی ہے۔
تلنگانہ اور تمل ناڈو میں معاہدے
تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے جنوری 2024 میں اڈانی گروپ کے ساتھ 12,400 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے لیے چار معاہدے کیے تھے۔ ان میں ڈیٹا سینٹر، توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور دفاعی سازوسامان کی تیاری شامل ہے۔ تمل ناڈو میں بھی گروپ نے 42,700 کروڑ روپے کے مفاہمتی معاہدے کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں پمپڈ اسٹوریج، ڈیٹا سینٹر اور سیمنٹ یونٹس شامل ہیں۔
ہماچل اور جھارکھنڈ میں بھی موجودگی
ہماچل پردیش میں اڈانی گروپ کسانوں، خاص طور پر سیب پیدا کرنے والے کاشت کاروں کے لیے سپلائی چین تیار کر رہا ہے اور سیمنٹ کا کاروبار بھی چلا رہا ہے۔ جھارکھنڈ میں گروپ نے 1,600 میگاواٹ کا گوڈا پاور پلانٹ قائم کیا ہے، جس میں 16,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
بہار میں بڑے منصوبے
بہار میں اڈانی گروپ نے مئی 2026 میں اعلان کیا تھا کہ آئندہ تین سے چار برسوں میں ریاست میں 50,000 سے 60,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس سرمایہ کاری میں بجلی، سڑک، گیس کی تقسیم اور سیمنٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ ان میں سب سے بڑا منصوبہ بھاگلپور ضلع کے پیرپینتی میں 27,000 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والا 2,400 میگاواٹ کا تھرمل پاور پلانٹ ہے۔
آندھرا پردیش میں گوگل کے ساتھ شراکت داری
آندھرا پردیش میں گوگل نے 2026 سے 2030 تک 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ وشاکھاپٹنم میں قائم ہونے والے مصنوعی ذہانت کے مرکز میں اڈانی کونیکس اور ایئرٹیل انفراسٹرکچر پارٹنر ہیں۔ اس کے علاوہ اڈانی گروپ کے پاس کرشنا پٹنم بندرگاہ اور قابل تجدید توانائی کے کئی منصوبے بھی ہیں۔
ریاستوں کے لیے اہم شراکت دار
اڈانی گروپ کی بڑے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے اور مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی صلاحیت اسے ریاستوں کے ترقیاتی ایجنڈے کا اہم حصہ بنا رہی ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ گروپ کی سرمایہ کاری صرف بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں تک محدود نہیں ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حکومتیں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے اڈانی گروپ کے ساتھ معاہدے کر رہی ہیں۔اڈانی گروپ کی سرمایہ کاری اب سیاسی حدود سے آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ریاستوں کے لیے یہ ایک عملی ضرورت بھی ہے، کیونکہ انہیں ایسے نجی سرمایہ کاروں کی ضرورت ہوتی ہے جو بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




