نئی دہلی : بہار کانگریس میں اندرونی ناراضی اب کارروائی تک پہنچ گئی ہے۔ راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے سے ملاقات کی کوشش کے باوجود بات نہیں بنی تو ناراض رہنماؤں نے دہلی میں پارٹی قیادت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اب اس مظاہرے کا اثر 29 رہنماؤں پر پڑا ہے۔ بہار پردیش کانگریس کی ڈسپلنری کمیٹی نے تمام رہنماؤں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔لیڈروں سے 72 گھنٹے کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔ نوٹس میں پارٹی مخالف سرگرمیوں اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ 8 ستمبر کا ہے۔ ان لیڈروں پر الزام ہے کہ انہوں نے نئی دہلی میں اے آئی سی سی دفتر کے قریب بہار کانگریس کی قیادت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین کپل دیو پرساد یادو کی جانب سے جاری نوٹس میں اسے پارٹی مخالف سرگرمی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق مظاہرے میں لیڈروں کی فعال شرکت پارٹی کی پالیسی، نظم و ضبط اور ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔
72 گھنٹے میں دینا ہوگا جواب
نوٹس پانے والے رہنماؤں کو 72 گھنٹے کے اندر ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے اپنا تحریری موقف پیش کرنا ہوگا۔ ان سے پوچھا گیا ہے کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں جواب نہیں دیا گیا یا جواب اطمینان بخش نہیں پایا گیا تو پارٹی کے ضوابط کے تحت یکطرفہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کئی سابق ارکان اسمبلی اور ضلعی صدور بھی شامل
نوٹس پانے والوں میں سابق ارکان اسمبلی انیل سنگھ اور پونم دیوی کے علاوہ سیوان ضلع کانگریس کے سابق صدر ودھو شیکھر پانڈے، مغربی چمپارن کے سابق ضلعی صدر بھرت بھوشن دوبے، مدھے پورہ کے سابق ضلعی صدر ستیندر یادو اور اورنگ آباد کے سابق ضلعی صدر مرتیونجے سنگھ شامل ہیں۔
ریاستی قیادت کو ہٹانے کا مطالبہ تھا
دراصل ناراض لیڈروں کا ایک گروپ بہار کانگریس کی ریاستی قیادت سے ناخوش بتایا جا رہا ہے۔ ان رہنماؤں نے دہلی میں مظاہرے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بہار کانگریس کے صدر راجیش رام اور بہار کے انچارج کرشنا الاورو کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ مظاہرین نے پارٹی تنظیم میں مبینہ بدعنوانی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی شکایات کانگریس کے سینئر رہنماؤں تک پہنچانے کی کوشش کی، لیکن انہیں مناسب پلیٹ فارم نہیں ملا۔
بہار کانگریس میں پہلے بھی ہو چکی ہے کارروائی
بہار کانگریس میں یہ تنازع نیا نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی کچھ لیڈروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی طرح کے الزامات کے درمیان 9 لیڈروں کو 18 فروری کو 6 سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ ان لیڈروں نے اپنی برطرفی پر بھی سوال اٹھائے تھے۔ناراض لیڈروں کے گروپ نے 47 رہنماؤں کو جاری کیے گئے نوٹس واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ ریاستی یونٹ نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ دوسری جانب ریاستی کانگریس قیادت ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ دہلی میں مظاہرے کی تیاری کرنے والے کچھ رہنماؤں کو پہلے ہی پارٹی سے نکالا جا چکا تھا اور مرکزی قیادت نے بہار یونٹ کو تنظیم مضبوط کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

