مرکزی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کے وسیع مطالعاتی جائزوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بھارت میں استعمال ہونے والی کووڈ-19 ویکسینز محفوظ اور موثر ہیں، اور ان کے سنگین مضر اثرات کے واقعات انتہائی نایاب ہیں۔ یہ بیان کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اس دعوے کے جواب میں آیا ہے کہ صوبے کے حسان ضلع میں حالیہ ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات کا تعلق ویکسینیشن سے ہو سکتا ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ اچانک ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں، جن میں جینیاتی مسائل، طرز زندگی، پہلے سے موجود صحت کے مسائل، اور کووڈ-19 کے بعد کی پیچیدگیاں شامل ہیں، لیکن ویکسینیشن کا کوئی براہ راست تعلق نہیں پایا گیا۔ آئی سی ایم آر اور این سی ڈی سی کے مطالعے نے ثابت کیا ہے کہ ویکسینیشن نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اس نے وبائی مرض کے دوران لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔
آئی سی ایم آر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمیولوجی (این آئی ای) کی طرف سے مئی سے اگست 2023 تک 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 47 ہسپتالوں میں ایک مطالعہ کیا گیا، جس کا عنوان تھا “Factors associated with unexplained sudden deaths among adults aged 18-45 years in India – a multi-centric matched case-control study”۔ اس مطالعے میں اکتوبر 2021 سے مارچ 2023 کے درمیان اچانک اموات کا شکار ہونے والے صحت مند افراد کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ کووڈ-19 ویکسینیشن سے اچانک اموات کا خطرہ نہیں بڑھتا، بلکہ جینیاتی عوامل، تمباکو نوشی، شراب کا زیادہ استعمال، اور غیر معمولی شدید جسمانی سرگرمی جیسے عوامل اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز)، نئی دہلی کی طرف سے ایک اور جاری مطالعہ “Establishing the cause in sudden unexplained deaths in young” سے بھی یہ بات سامنے آئی کہ ہارٹ اٹیک یا مایوکارڈیل انفکشن نوجوانوں میں اچانک اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے، لیکن اس کا ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Extensive studies by ICMR (Indian Council of Medical Research) and AIIMS on sudden deaths among adults post-COVID have conclusively established no linkage between COVID-19 vaccines and sudden deaths: Ministry of Health and Family Welfare.
Studies by ICMR and the National Centre… pic.twitter.com/f5NcZ9x1Oq
— ANI (@ANI) July 2, 2025
وزارت صحت نے زور دیا کہ کووڈ-19 ویکسینز کے بارے میں غیر مصدقہ دعوؤں اور افواہوں سے ویکسین ہچکچاہٹ (vaccine hesitancy) بڑھ سکتی ہے، جو عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا تھا کہ حسان ضلع میں گزشتہ ایک ماہ میں 20 سے زائد افراد ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہوئے، اور اس کی وجہ ویکسین کی “جلد بازی میں منظوری اور تقسیم” ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں مرکزی حکومت نے کہا کہ یہ دعوے سائنسی ثبوتوں پر مبنی نہیں ہیں اور عوام کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ کرناٹک حکومت نے اس سلسلے میں ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی جے دیوا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر سائنسز اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رویندرناتھ کر رہے ہیں، اور اسے 10 دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کا بغور جائزہ لے گی، لیکن قومی ڈیٹا ویکسین سے متعلقہ اموات کے دعوؤں کی حمایت نہیں کرتا۔
وزارت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سائنسی ثبوتوں پر بھروسہ کریں اور ویکسینیشن کے بارے میں غیر مصدقہ معلومات سے گمراہ نہ ہوں۔ آئی سی ایم آر اور ایمز کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کووڈ-19 ویکسینیشن نے نہ صرف شدید بیماری سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کیا بلکہ بعض صورتوں میں اچانک اموات کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مدد کی۔ سائنسی ماہرین نے واضح کیا کہ ویکسین کے خلاف غیر مصدقہ بیانات نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ وبائی مرض کے دوران ویکسینز کے ذریعے بچائی گئی لاکھوں جانیں کے کردار کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اپنی عہد کی تجدید کی کہ وہ شواہد پر مبنی عوامی صحت کی تحقیق کو جاری رکھے گی تاکہ شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


