نئی دہلی: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے جمعہ کے روز دہلی ہائی کورٹ کو صاف لفظوں میں یقین دہانی کرائی کہ پائلٹس کے لازمی ہفتہ وار آرام (Weekly Rest) میں کسی بھی ایئرلائن کے لیے کوئی نرمی نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (FDTL) قواعد پوری طرح نافذ ہیں اور حفاظتی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ یہ یقین دہانی مفاد عامہ کی اس عرضی (PIL) کی سماعت کے دوران دی گئی جس میں ڈی جی سی اے کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت بعض آپریشنل امور میں عارضی نرمی دی گئی ہے۔ ڈی جی سی اے کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈووکیٹ انجنا گوسائیں نے عدالت کو بتایا: ’’ہفتہ وار آرام کسی بھی صورت میں قابل گفت و شنید نہیں ہے۔ اس میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی۔ کسی بھی ایئرلائن کو اس معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ واحد رعایت رات کی پروازوں (Night Operations) سے متعلق دی گئی ہے اور وہ بھی صرف 10 فروری 2026 تک عارضی بنیادوں پر ہے تاکہ نئے قواعد کے نفاذ کے دوران ایئرلائنز کو آپریشنل طور پر خود کو ہم آہنگ کرنے کا موقع مل سکے۔
عرضی گزاروں کے خدشات
یہ عرضی سبری رائے لینکا (سابق ایئرکرافٹ انجینئر)، امن مونگا (کریو ریسورس مینجمنٹ ٹرینر) اور کرن سنگھ (سماجی کارکن) کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ڈی جی سی اے نے نظرثانی شدہ FDTL قواعد کو 10 فروری 2026 تک مؤثر طور پر معطل کر رکھا ہے، جو کہ قانوناً درست نہیں اور اس سے پائلٹس کی تھکن اور مسافروں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دسمبر 2025 میں بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی اور تاخیر کے پس منظر میں حفاظتی اصولوں میں کسی بھی قسم کی نرمی نہایت تشویشناک ہے۔ ڈی جی سی اے اور انٹرگلوب ایوی ایشن (انڈیگو ایئرلائن) نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ FDTL قواعد کو معطل نہیں کیا گیا بلکہ صرف مخصوص اور محدود مدت کے لیے کچھ رعایتیں دی گئی ہیں، جن سے بنیادی حفاظتی تقاضوں، خصوصاً ہفتہ وار آرام، پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
درخواست گزار کی حیثیت پر عدالت کی رائے
اس معاملے کی سماعت کرنے والی ڈویژن بنچ، جس میں چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا شامل تھے، نے کہا کہ حفاظتی قوانین ایک بار نافذ ہو جائیں تو عام طور پر ان پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہوتا ہے، جب تک کہ انہیں کسی قانونی فورم پر چیلنج نہ کیا جائے۔ عدالت نے کہا: ’’یہ ضوابط براہ راست مسافروں کی حفاظت سے جڑے ہوئے ہیں۔ اٹھائے گئے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ عدالت نے اس اعتراض کو مسترد کر دیا کہ چونکہ اسی نوعیت کا ایک معاملہ پہلے سے زیرِ سماعت ہے، اس لیے نئی عرضی قابلِ سماعت نہیں۔ عدالت نے کہا کہ سبری رائے لینکا ایک سابق ایئرکرافٹ انجینئر ہیں اور ان کا پیشہ براہِ راست فضائی حفاظت سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ان کی درخواست کو یکسر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت، ڈی جی سی اے اور انڈیگو ایئرلائن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کیا ہے اور معاملے کی اگلی سماعت چار ہفتوں بعد مقرر کی ہے۔ عدالت نے ڈی جی سی اے کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنا مکمل اور تفصیلی موقف تحریری طور پر ریکارڈ پر رکھے۔
نظرثانی شدہ FDTL قوانین کا پس منظر
ڈی جی سی اے نے 2025 میں FDTL کے نئے قواعد نافذ کیے تھے جن کا مقصد پائلٹس کے ڈیوٹی اوقات کو محدود کرنا، لازمی آرام کے وقفے بڑھانا اور رات کی لینڈنگز کو کم کرنا تھا، تاکہ عالمی سطح کے حفاظتی معیارات کے مطابق بھارتی فضائی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ دہلی ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت یہ معاملہ فضائی سفر کی حفاظت، پائلٹس کی صحت اور مسافروں کے تحفظ سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ڈی جی سی اے کی یقین دہانی کے باوجود عدالت نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

