گورکھپور میں نتن نوین اور یوگی آدتیہ ناتھ نے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل پدیاترا کی، جس میں ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ نتن نوین نے سماجوادی پارٹی کے انتخابی نشان سائیکل کو ’پنکچر‘ قرار دیا، جبکہ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ انتخابی شکست کے بعد ای وی ایم اور آئینی اداروں کو قصوروار ٹھہراتی ہے۔ واضح ہے کہ یہ پروگرام محض جمہوریت پر بحث نہیں تھا، بلکہ 2027 کے انتخابی ماحول کو بی جے پی کے حق میں تیار کرنے کا ایک بڑا آغاز تھا۔
گورکھپور اور گورکھ ناتھ پیٹھ اتر پردیش کی سیاست میں ایک دوسرے کے مترادف بن چکے ہیں۔ یہاں بی جے پی کی اقتدار کی سیاست، ثقافتی شناخت، مذہبی عقیدت اور تنظیمی طاقت ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاسی شناخت اسی علاقے سے وابستہ ہے، اس لیے گورکھپور میں ہونے والا کوئی بھی بڑا پروگرام صرف مشرقی اتر پردیش تک محدود پیغام نہیں دیتا، بلکہ پورے صوبے اور قومی سیاست کے لیے بھی ایک اشارہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے نتن نوین کا گورکھپور پہنچنا پارٹی کی جانب سے یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ نئی قومی قیادت یوگی آدتیہ ناتھ کے مضبوط سیاسی گڑھ کو اہمیت دیتی ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ بی جے پی اتر پردیش کو 2027 کے انتخابات کا مرکزی محاذ سمجھ رہی ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ اس کا قومی صدر یوگی کے ساتھ عوامی اسٹیج شیئر کرکے یہ پیغام دے کہ مرکزی قیادت، تنظیم اور ریاستی حکومت ایک سیاسی ڈھانچے کے طور پر متحد ہیں۔
لیکن اسی مقام پر سب سے بڑی سیاسی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔ گورکھپور میں نتن نوین کے سامنے یوگی آدتیہ ناتھ موجود ہیں، جن کا سیاسی اثر و رسوخ نتن نوین کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور قائم شدہ ہے۔ جلسے، پدیاترا، استقبالی مقامات اور کارکنوں کے ہجوم کو دیکھ کر یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پروگرام کا مرکز نتن نوین تھے۔ لوگوں کی توجہ، نعرے اور جذباتی وابستگی زیادہ تر یوگی کے ساتھ تھی۔ گورکھپور یوگی کی سیاسی راجدھانی ہے اور یہاں ان کی موجودگی ہی پروگرام کی اصل طاقت ہے۔
نتن نوین کے لیے گورکھپور کا دورہ دو مقاصد پورے کر سکتا ہے۔ پہلا یہ کہ بی جے پی کے اندر تبدیلی کے اس دور میں وہ یوگی آدتیہ ناتھ سے قربت بڑھانا چاہتے ہوں، تاکہ اتر پردیش جیسی اہم ریاست میں پارٹی کے سب سے بااثر وزیر اعلیٰ کی حمایت حاصل رہے۔ دوسرا مقصد اپنے لیے ایسی سیاسی زمین تلاش کرنا ہو سکتا ہے جہاں ان کی موجودگی محض تنظیمی عہدے تک محدود نہ رہے بلکہ قیادت کے طور پر بھی پہچانی جائے۔
یہ دونوں مقاصد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ضرور ہیں، لیکن ان میں فرق بھی ہے۔ یوگی سے قربت بڑھانا بی جے پی کے اندر توازن قائم رکھنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جبکہ اپنی الگ شناخت بنانا زیادہ مشکل کام ہے۔ گورکھپور جیسی جگہ پر نتن نوین کی تقریر یوگی کی موجودگی کے بغیر ادھوری محسوس ہوگی۔ یہاں تالیاں یوگی کے نام پر بھی بجتی ہیں اور یہی نتن نوین کی سیاسی حد ہے۔ قومی صدر ہونے کے باوجود وہ یوگی کے گڑھ میں زیادہ تر ایک مہمان کے کردار میں دکھائی دیے۔
نتن نوین پہلے کہہ چکے ہیں کہ اتر پردیش کا انتخاب یوگی آدتیہ ناتھ کے چہرے پر لڑا جائے گا۔ سیاسی اعتبار سے یہ بیان اہم تھا، کیونکہ اس سے پارٹی کے اندر یوگی کو تسلیم شدہ قیادت کا درجہ دینے کا اشارہ ملا۔ گورکھپور میں ان کی موجودگی اور یوگی کے ساتھ مشترکہ پروگرام نے اسی پیغام کو مزید مضبوط کیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نتن نوین یوگی سے قربت بڑھا کر اتر پردیش کی بی جے پی میں اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہوں۔
لیکن بی جے پی کے اندر اس معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ ریاستی صدر پنکج چودھری سمیت کُرمی سماج کا ایک بڑا طبقہ اس خیال سے پوری طرح متفق نظر نہیں آتا۔ اتر پردیش کی بی جے پی سیاست میں ذات پات کا توازن، تنظیم پر کنٹرول اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کی دعویداری مختلف گروپوں کے درمیان ہمیشہ بحث کا موضوع رہی ہے۔ کُرمی سماج کے لیے پنکج چودھری کی موجودگی محض تنظیمی معاملہ نہیں، بلکہ سماجی اور سیاسی نمائندگی کا سوال بھی ہے۔ اس لیے نتن نوین کا یوگی کی حمایت میں دیا گیا بیان کوئی حتمی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی اشارہ ہے۔
گورکھپور میں نتن نوین نے سماجوادی پارٹی کے انتخابی نشان سائیکل کو ’پنکچر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنکچر ٹائر والی سائیکل اتر پردیش کی ایکسپریس وے سیاست میں نہیں چل سکتی۔ انہوں نے 2027 میں بی جے پی اور این ڈی اے کی جیت کا دعویٰ بھی کیا۔ یہ تقریر انتخابی انداز میں کی گئی، جس کا مقصد کارکنوں میں اعتماد پیدا کرنا اور اپوزیشن کو سیاسی طور پر کمزور دکھانا تھا۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کانگریس اور انڈیا اتحاد پر افراتفری پھیلانے کا الزام لگایا اور راہل گاندھی پر سخت طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابی شکست کے بعد ای وی ایم کو قصوروار ٹھہرا کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ واضح ہے کہ یہ پدیاترا صرف ’جمہوریت بچاؤ‘ کے نعرے تک محدود نہیں تھی، بلکہ 2027 کے انتخابی ماحول کو بی جے پی کے حق میں بنانے کا ایک بڑا آغاز تھی۔
اگر نتن نوین کو اپنی الگ شناخت قائم کرنی ہے تو انہیں اتر پردیش یا گورکھپور جیسی مضبوط قیادت والی ریاستوں میں اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں یوگی کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا اور ان کے سائے میں کھڑے ہوکر نتن نوین صرف قومی صدر کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یوگی کے ساتھ کھڑے ہوکر وہ اپنی موجودگی تو درج کرا سکتے ہیں، لیکن اپنی الگ سیاسی شناخت قائم کرنا آسان نہیں ہوگا۔
ان کا اصل امتحان ان ریاستوں میں ہوگا جہاں بی جے پی کی قیادت کمزور ہے یا جہاں پارٹی کو نئے تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ جھارکھنڈ اور اڈیشہ جیسی ریاستوں میں نتن نوین کو تنظیم مضبوط کرنے، نئے چہروں کو ترجیح دینے اور انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ دوسری طرف ہماچل پردیش میں فی الحال ان کے لیے اپنی الگ شناخت قائم کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ وہاں پارٹی پہلے ہی دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔
ہماچل بی جے پی میں ایک دھڑا سابق وزیر اعلیٰ پریم کمار دھومل اور ان کے بیٹے انوراگ ٹھاکر سے وابستہ ہے، جبکہ دوسرا دھڑا سابق قومی صدر جے پی نڈا کی حمایت یافتہ قیادت کا سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں نتن نوین کی تقریروں پر تالیاں اسی وقت بجیں گی جب دونوں دھڑے متفق ہوں گے۔ اندرونی اتفاق رائے کے بغیر کوئی بھی قومی صدر ہماچل میں اپنی الگ شناخت قائم نہیں کر سکتا۔
نتن نوین کا گورکھپور دورہ تنظیمی اعتبار سے بی جے پی کے لیے کامیاب دکھائی دے سکتا ہے، لیکن سیاسی طور پر اس کا زیادہ تر کریڈٹ یوگی آدتیہ ناتھ کو ملے گا۔ گورکھپور میں یوگی کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی شناخت بنانے کی کوشش نتن نوین کے لیے آسان نہیں ہے۔ ان کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ یوگی کے گڑھ میں ہجوم جمع کر پاتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان ریاستوں میں پارٹی کو نئی سمت دے پاتے ہیں یا نہیں جہاں قیادت کمزور ہے اور بی جے پی کو ایک نئی تنظیمی بنیاد کی ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




