Bharat Express DD Free Dish

BHIM App: بھیم ایپ میں نیا فیچر متعارف، اب بایومیٹرک سے کرسکیں گے یوپی آئی ادائیگی، صارفین کو سہولت اور سکیورٹی میں اضافہ

یہ فیچر فی الحال ان اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر دستیاب ہے جن میں فنگر پرنٹ یا فیس ریکگنیشن کی سہولت موجود ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئے فیچر سے نہ صرف ڈیجیٹل پیمنٹس کا دائرہ وسیع ہوگا بلکہ بھارت میں کیش لیس معیشت کے ہدف کو بھی تقویت ملے گی۔

نئی دہلی: ڈیجیٹل ادائیگی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کے تحت نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا کی ذیلی کمپنی این پی سی آئی بھیم سروسز لمیٹڈ نے بھیم ایپ میں نیا بایومیٹرک آتھنٹیکیشن فیچر متعارف کر دیا ہے، جس کے ذریعے اب صارفین بغیر یوپی آئی پن کے ادائیگی کر سکیں گے۔ اس نئے فیچر کے تحت صارفین اب 5,000 روپے تک کے یوپی آئی ٹرانزیکشن اپنے اسمارٹ فون کے فنگر پرنٹ یا فیس ریکگنیشن کے ذریعے منظور کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف ادائیگی کا عمل تیز ہوگا بلکہ روزمرہ کے چھوٹے لین دین مزید آسان ہو جائیں گے۔ یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ہوگا جو بار بار پن ڈالنے سے بچنا چاہتے ہیں یا جنہیں پن بھول جانے کی شکایت رہتی ہے۔

صارفین کے تجربے میں بہتری

نئے نظام کے تحت چھوٹے ٹرانزیکشن کے لیے ہر بار یوپی آئی پن درج کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، جس سے غلط پن ڈالنے کی وجہ سے ناکام ہونے والے ٹرانزیکشن میں بھی کمی آئے گی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال مزید بڑھے گا اور عام صارفین کے لیے سہولت میں اضافہ ہوگا۔ یہ بایومیٹرک فیچر روزمرہ کے مختلف کاموں میں استعمال کیا جا سکے گا، جیسے:

دوستوں اور اہل خانہ کو رقم بھیجنا

دکانوں پر کیو آر کوڈ اسکین کرکے ادائیگی

آن لائن خریداری کے دوران پیمنٹ

اس طرح صارفین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر آسان اور تیز سہولت میسر آئے گی۔

سکیورٹی کے حوالے سے اہم قدم

کمپنی کے مطابق بایومیٹرک آتھنٹیکیشن سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی زیادہ محفوظ ہے، کیونکہ فنگر پرنٹ اور فیس ڈیٹا صارف کے موبائل ڈیوائس میں ہی محفوظ رہتا ہے۔ اس سے پن لیک ہونے یا غلط استعمال کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ للیتا نٹراج، ایم ڈی و سی ای او، نے کہا کہ اس فیچر کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگی کو آسان، محفوظ اور سب کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔

بڑی رقم کے لیے پرانا نظام برقرار

اگرچہ 5,000 روپے تک کے لیے بایومیٹرک ادائیگی ممکن ہوگی، تاہم اس سے زیادہ رقم کے ٹرانزیکشن کے لیے صارفین کو اب بھی یوپی آئی پن درج کرنا ہوگا۔ اس کا مقصد بڑے لین دین میں اضافی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فیچر فی الحال ان اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر دستیاب ہے جن میں فنگر پرنٹ یا فیس ریکگنیشن کی سہولت موجود ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئے فیچر سے نہ صرف ڈیجیٹل پیمنٹس کا دائرہ وسیع ہوگا بلکہ بھارت میں کیش لیس معیشت کے ہدف کو بھی تقویت ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read