ماؤنوازوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی! ایک طرف چھتیس گڑھ کے جنگلات میں سیکورٹی فورسز نے 14 ماؤنوازوں کو مار گرایا، تو دوسری طرف حیدرآباد میں انتہائی مطلوب نکسل کمانڈر دیوا بارسے نے اپنے 20 ساتھیوں کے ساتھ سرینڈر کر دیا ہے۔ ہفتہ کا دن ماؤ وادیوں کے لیے زبردست تباہی لے کر آیا ہے۔ سیکورٹی فورسز نے نکسلوں کو دوہرے محاذ پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ایک طرف چھتیس گڑھ کے بیجاپور اور سُکما کے جنگلات میں سیکورٹی فورسز نے ایک مڈبھیڑ میں 14 نکسلوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دوسری جانب چھتیس گڑھ کا انتہائی مطلوب نکسل لیڈر دیوا بارسے نے حیدرآباد میں پولیس کے سامنے خودسپردگی اختیار کر لی ہے۔
سُکما اور بیجاپور میں انکاؤنٹر (اینٹی نکسل آپریشن)
چھتیس گڑھ کے بستر ڈویژن میں سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ سُکما ضلع کے کِسٹارام علاقے میں ہونے والی شدید مڈبھیڑ میں 12 نکسلوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ بیجاپور کے گنگالور علاقے میں ڈی آر جی (DRG) کے جوانوں نے 2 نکسلوں کو ڈھیر کر دیا ہے۔ بیجاپور کے ایس پی جتیندر یادو نے مڈبھیڑ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ڈی آر جی کی ٹیم آپریشن پر نکلی تھی۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 5 بجے نکسلوں نے فائرنگ شروع کی، جس کے جواب میں جوانوں نے بھی مورچہ سنبھالا۔ موقع سے دو نکسلوں کی لاشیں اور ہتھیار برآمد کر لیے گئے ہیں۔ علاقے میں اب بھی وقفے وقفے سے فائرنگ جاری ہے اور سرچ آپریشن چل رہا ہے۔
حیدرآباد میں بڑا سرینڈر (Naxals Surrender In Hyderabad)
جنگلات میں انکاؤنٹر کے درمیان ایک اور بڑی خبر حیدرآباد سے سامنے آئی ہے۔ چھتیس گڑھ کا بدنام اور انتہائی مطلوب نکسل لیڈر دیوا بارسے اپنے 20 ساتھیوں کے ساتھ تلنگانہ کے مُلوگو پہنچا اور وہاں پولیس کے سامنے سرینڈر کر دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ حیدرآباد پولیس آج دوپہر 3 بجے ایک پریس کانفرنس میں اس خودسپردگی کی باضابطہ معلومات دے گی۔ اتنے بڑے لیڈر کا سرینڈر کرنا نکسل تنظیم کے لیے ایک بڑا جھٹکا سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



