Bharat Express DD Free Dish

Maoists

حالیہ مہینوں میں چائباسا اور آس پاس کے علاقوں میں نکسل مخالف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ جون 2025 میں بھی چائباسا کے ٹونٹو اور گوئلکیرا علاقوں میں ہونے والی مڈبھیڑ میں چار نکسلی مارے گئے تھے، جن میں تنظیم کے سینئر کمانڈر شامل تھے۔ سال 2026 میں نکسلیوں کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی یہ پہلی مڈبھیڑ ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں ماؤ واد مخالف مہم کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع میں 52 ماؤ وادیوں نے سکیورٹی فورسز کے سامنے خودسپردگی اختیار کر لی۔

چھتیس گڑھ کے نکسلی متاثرہ ضلع دھمتری سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، جہاں پانچ لاکھ روپے کی انعامی خاتون نکسلی نے ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔ ماؤ وادی تنظیم کی سرگرم رکن گیتا نے دھمتری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ آفس پہنچ کر باقاعدہ طور پر سرنڈر کیا۔

ماؤنوازوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی! ایک طرف چھتیس گڑھ کے جنگلات میں سیکورٹی فورسز نے 14 ماؤنوازوں کو مار گرایا، تو دوسری طرف حیدرآباد میں انتہائی مطلوب نکسل کمانڈر دیوا بارسے نے اپنے 20 ساتھیوں کے ساتھ سرینڈر کر دیا ہے۔

بستر رینج کے پولیس انسپکٹر جنرل سُندر راج پی نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن میں تین خواتین اور تین مرد نکسلی مارے گئے۔ علاقے میں اضافی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ جھڑپ کے بعد ہی مکمل تفصیلات فراہم کی جا سکیں گی۔

بھارت میں ماؤ نواز یا نکسلی تحریک، جو کبھی ”جنگ آزادی“ اور ”انقلاب“ کے نظریے پر مبنی تھی، آج اندرونی بحران، نظریاتی انتشار اور قیادت کے فقدان کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔بھوپتی اور ستیش، دونوں تنظیم کے تجربہ کار حکمت عملی اور فیلڈ آپریشنز میں اہم کردار ادا کرنے والے کیڈر تھے۔ ان کی خودسپردگی نے تنظیم کے نچلے سطح کےکیڈروں میں شدید تشویش اور خوف کی لہر پیدا کر دی ہے۔

ماؤ نواز تشدد کو ترقی مخالف قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، "ماؤ نواز دہشت گردی کا بحران اپنے اختتام کے قریب ہے اور ہندوستان جلد ہی اس خطرے سے آزاد ہو جائے گا۔ پہلے 125 اضلاع متاثر تھے لیکن اب صرف 11 رہ گئے ہیں"۔

پولیس حکام کے مطابق، سیکورٹی فورسز نے چھوٹے بیٹھیا کے علاقے میں عسکریت پسندوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ جامع ماؤنواز مخالف حکمت عملی میں ایک اہم محاذ بن گیا ہے۔ یہ آپریشن چھتیس گڑھ-آندھرا پردیش سرحد پر ایک بڑی حکمت عملی کی کامیابی کے فوراً بعد ہوا ہے جہاں گرے ہاؤنڈز فورس نے مریڈ پلی میں تین سینئر ماؤنواز کیڈروں کو مار گرایا تھا۔

اس یوم جمہوریہ پر بستر کے سابقہ ماؤنواز گڑھوں کے کم از کم 30 دیہاتوں میں ترنگا لہرایا جائے گا، جو کبھی ہڈما کی پی ایل جی اے بٹالین 1 کے زیر تسلط تھا۔

انکاؤنٹر کے مقام سے ایس ایل آر اور کئی ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ اس آپریشن میں تین اضلاع سکما، بیجاپور اور دنتے واڑہ کے ڈی آر جی، کوبرا 205، 206، 208، 210 اور 229 بٹالین کے سپاہی شامل تھے۔اس کے ساتھ اس ماہ اب تک ریاست میں مختلف انکاؤنٹر میں 26 نکسلائیٹس مارے جا چکے ہیں۔