Bharat Express DD Free Dish

National Women’s Forum for Peace and Harmony: نئی دہلی میں ’نیشنل ویمنز فورم فار پیس اینڈ ہارمنی‘ کا آغاز، امن، انصاف اور جامع قیادت کے عزم کا اظہار

خواتین لیڈران، ماہرین تعلیم، طلبہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی شخصیات نے اجتماعی پلیٹ فارم قائم کیا،جہاں تعلیم، خواتین کی خودمختاری اور سماجی انصاف کو قومی تعمیر کی بنیاد قرار دیا۔

امن، ہم آہنگی، انصاف، خواتین کی بااختیاری اور قومی تعمیر کے لیے کام کرنے والے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی غرض سے ’نیشنل ویمنز فورم فار پیس اینڈ ہارمنی‘ (NWFPH) کا باضابطہ آغاز 19 اگست 2026 کو نئی دہلی کے فارن کرسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا میں کیا گیا۔ ورلڈ ہیومینیٹیرین ڈے کے موقع پر منعقدہ افتتاحی پروگرام میں خواتین لیڈران، دانشوروں، ماہرین تعلیم، طلبہ، میڈیا نمائندوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ فورم کا مقصد ایک ایسے جامع، پُرامن اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل کے لیے اجتماعی کوشش کرنا ہے، جہاں خواتین کی مؤثر شمولیت، سماجی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

ڈاکٹر روپ ریکھا ورما نے کیا افتتاح

افتتاحی پروگرام کی مہمانِ خصوصی معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم، لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر روپ ریکھا ورما تھیں۔ مہمانانِ اعزاز میں سینئر صحافی بھاشا سنگھ، نئی دہلی وائی ایم سی اے آئی ایم ایس آئی ٹی کی ڈائریکٹر بھارتی ناگپال اور دلت ارتھک ادھیکار آندولن کی جنرل سکریٹری بینا جے پالیکال شامل تھیں۔ پروگرام کا آغاز فورم کی سکریٹری ابھیرامی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے فورم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد NWFPH کی جنرل سکریٹری ڈاکٹر رابعہ بصری نے ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کا تعارف کرایا۔اس موقع پر فورم کے لوگو کی بھی نقاب کشائی کی گئی۔ منتظمین کے مطابق لوگو میں خواتین کے ہاتھوں کو ایک کبوتر کو تھام کر آزاد کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو خواتین کو امن کی علمبردار اور پیش رو کے طور پر پیش کرتا ہے۔ کبوتر کو آزاد کرنے کا تصور اس اجتماعی خواہش کی علامت ہے کہ امن کا پیغام پورے معاشرے میں بلند ہو۔

’سروودیہ اور گاندھی کے اصولوں پر چلنے کی ضرورت‘

فورم کی چیئرپرسن جگرتی راہی نے اپنے افتتاحی خطاب میں سروودیہ اور مہاتما گاندھی کے نظریات کی بنیاد پر امن اور ہم آہنگی کے لیے نئے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل ترین حالات میں بھی گاندھی کے اصول انسانیت کو سمت اور اخلاقی رہنمائی فراہم کرتے رہے ہیں۔فورم کی وائس چیئرپرسن رحمت النساء اے نے کہا کہ NWFPH کا مقصد معاشرے میں موجود مختلف خلا کی نشاندہی کرکے ان کے عملی حل تلاش کرنا ہے۔ ان کے مطابق خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات مل کر خواتین، برادریوں اور انسانیت کو درپیش مسائل کے قابلِ عمل حل تلاش کرسکتے ہیں۔ فورم محض مسائل کی نشاندہی تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ سماجی تبدیلی کے لیے عملی اقدامات کا خواہاں ہے۔

فورم کو زیادہ جامع بنانے پر زور

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر روپ ریکھا ورما نے فورم کو زیادہ سے زیادہ جامع اور نمائندہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ مختلف جنس، طبقات اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو فورم کا حصہ بنایا جائے، تاکہ یہ ایک متنوع اور فعال پلیٹ فارم بن سکے۔سینئر صحافی بھاشا سنگھ نے موجودہ دور میں امن اور ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے ان قوتوں کی نشاندہی کرنے پر زور دیا جو معاشرے کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے ایسی ’فاشسٹ قوتوں‘ کے خلاف جمہوری اور جامع معاشرے کے حامی افراد، آزاد صحافت اور اجتماعی سماجی عمل کے کردار کو اہم قرار دیا۔

دلت قیادت اور نمائندگی پر زور

دلت ارتھک ادھیکار آندولن کی جنرل سکریٹری بینا جے پالیکال نے سیاست، اداروں اور فیصلہ سازی کے مراکز میں دلت قیادت اور نمائندگی کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک حقیقی جامع معاشرے کی تعمیر کے لیے سماجی ذہنیت میں تبدیلی اور مختلف طبقات کی قیادت کو قبول کرنا ضروری ہے۔ دہلی یونیورسٹی کی اے آئی ایس اے سکریٹری انجلی نے قومی تعمیر میں نوجوانوں اور طلبہ کی شرکت کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے تعلیم، مواقع اور جمہوری شمولیت سے متعلق طلبہ کے مسائل پر مسلسل مکالمے اور قومی سطح پر نوجوانوں کو زیادہ جگہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

’قومی تعمیر کے لیے تعلیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے‘

دہلی یونیورسٹی کی سابق پروفیسر اور NWFPH کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن پروفیسر نندیتا نارائن نے قومی تعمیر میں تعلیم، بالخصوص ابتدائی تعلیم، کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں موجود خلا کو دور کرنے اور تعلیم کو قومی ترقی کی مضبوط بنیاد بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی۔فورم کی میڈیا ایڈوائزر اور ساؤتھ ایشین انٹیگریٹڈ نیوز نیٹ ورک کی ایڈیٹر بنی یادیو نے فورم کے قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین امن، ہم آہنگی، انصاف اور قومی تعمیر کے مشترکہ مقصد کے لیے ایک ساتھ آئیں۔انہوں نے واضح کیا کہ فورم کا تصور صرف ’خواتین کے لیے، خواتین کے ذریعے اور خواتین کا‘ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد پورے معاشرے میں موجود خلا کی نشاندہی کرکے انہیں پُر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

پائیدار ترقی کے اہداف پر بھی گفتگو

بنی یادیو نے اقوام متحدہ کے 17 پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اور 2030 کے ہدف کا حوالہ دیتے ہوئے تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مسائل براہِ راست عام انسان کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور اکثر خواتین کو ان کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک ساتھ آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کی جدوجہد دراصل پوری انسانیت کی بہتری کی جدوجہد ہے۔

مکالمے سے عملی اقدام کی طرف بڑھنے کا عزم

پروگرام کے اختتام پر NWFPH کی جنرل سکریٹری ڈاکٹر رابعہ بصری نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فورم کے اس عزم کو دہرایا کہ امن، انصاف، شمولیت، وقار اور خواتین کی بااختیاری کے لیے صرف مکالمے تک محدود رہنے کے بجائے خیالات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔ نیشنل ویمنز فورم فار پیس اینڈ ہارمنی کا آغاز مختلف طبقات اور شعبوں کی آوازوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کے طور پر ہوا ہے۔ فورم کا مقصد جامع قیادت، سماجی انصاف، خواتین کی شرکت، امن اور قومی تعمیر کے لیے باہمی تعاون اور پائیدار اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read