Bharat Express DD Free Dish

Narottam Mishra’s supporters clash with cops: مدھیہ پردیش میں نروتم مشرا کا ٹکٹ کٹنے پر  ہزاروں حامیوں نے قومی شاہراہ این ایچ-44 کو بلاک کر دیا، پتھراؤ میں ایس پی سمیت 6 اہلکار زخمی

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایس پی میور کھنڈیلوال نے بتایا کہ جمعہ کی شام تقریباً چھ بجے سے تین ہزار سے زائد افراد شہر میں احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے بازار بند کرائے اور این ایچ-44 پر چکہ جام کر دیا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کئی مرتبہ شاہراہ خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن مظاہرین نے انکار کر دیا۔

مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے بعد شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے پر ان کے ہزاروں حامیوں نے قومی شاہراہ این ایچ-44 کو بلاک کر دیا، جس کے باعث تقریباً 15 کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ گیا اور آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔احتجاج نے رات کے دوران پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ پولیس کے مطابق علی الصبح مظاہرین نے پولیس ٹیم پر شدید پتھراؤ کیا، جس میں دتیا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) میور کھنڈیلوال، ایڈیشنل ایس پی سمیت چھ سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایس پی میور کھنڈیلوال نے بتایا کہ جمعہ کی شام تقریباً چھ بجے سے تین ہزار سے زائد افراد شہر میں احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے بازار بند کرائے اور این ایچ-44 پر چکہ جام کر دیا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کئی مرتبہ شاہراہ خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن مظاہرین نے انکار کر دیا۔ صبح تقریباً چار بجے اچانک پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا گیا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ایس پی کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے،  اس کے باوجود پتھراؤ جاری رہا۔ بعد ازاں پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دوبارہ آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہلکا لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ دیگر کو خودسپردگی کی وارننگ دی گئی ہے۔

دوسری جانب بی جے پی کے ضلعی وزیر بھانو سنگھ نے پولیس پر زیادتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کارکنان پرامن انداز میں پارٹی قیادت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ دتیا کا ٹکٹ واپس لے کر ڈاکٹر نروتم مشرا کو دیا جائے۔ ان کے مطابق کارکنان پوری رات رام دھن گاتے ہوئے احتجاج کرتے رہے، لیکن پولیس نے مبینہ طور پر پارٹی کارکنوں کو دفتر میں بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نروتم مشرا کو ٹکٹ نہیں دیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔واضح رہے کہ بی جے پی نے دتیا ضمنی انتخاب کے لیے نروتم مشرا کے بجائے آشوتوش تیواری کو امیدوار بنایا ہے، جس کے بعد کارکنوں میں ناراضی پھیل گئی۔  آشوتوش تیواری نے کہا کہ نروتم مشرا ان کے سرپرست ہیں اور وہ ان کے لیے انتخابی مہم بھی چلائیں گے۔

دتیا اسمبلی نشست پر ضمنی انتخاب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہونے والے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو رواں سال اپریل میں دہلی کی ایک عدالت نے دھوکہ دہی کے مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد ان کی رکنیت منسوخ ہو گئی۔ اس نشست پر 30 جولائی کو ووٹنگ جب کہ 3 اگست کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read