ناگالینڈ ایسی سرزمین ہے جہاں صدیوں تک کوئی بھی حکومت اپنی مکمل گرفت نہیں قائم کر پائی۔ نہ طاقتور آسام کے اہوم راجہ اور نہ ہی برطانوی سامراج ناگا قبائل کو مکمل طور پر زیر کرسکے۔ ناگا معاشرہ اپنی الگ شناخت، روایات، لباس اور لوک کہانیوں کے لیے مشہور تھا۔ یہ خطہ جنگلات میں رہنے والے متعدد قبائلیوں کا گھر تھا جنہوں نے اپنی صدیوں پرانی روایتوں، حتیٰ کہ نربلی (Head Hunting) جیسی رسومات کو بھی بڑی دیر تک قائم رکھا۔
انگریزوں کی آمد اور تبدیلی کی ہوا
انیسویں صدی تک یہ علاقہ اہوم سلطنت کے زیر اثر سمجھا جاتا تھا، لیکن عملی طور پر ناگا مکمل طور پر آزاد رہے۔ جب برطانوی اقتدار نے پورے آسام پر قبضہ کیا تو ناگالینڈ بھی برطانوی دائرہ اختیار میں آگیا۔ برطانوی مشنریز نے یہاں مذہب تبدیل کرانے کی بڑی مہم چلائی اور تقریباً 90 فیصد آبادی کو عیسائی بنا دیا، مگر ناگا قبائل نے اپنی مخصوص تہذیب اور روایات برقرار رکھیں۔ برطانوی دور میں انھیں Naga Hill-Tuensang کے نام سے جانا جاتا تھا اور مخصوص انتظامی علاقوں کی شکل اختیار کر چکے تھے۔
نیشنلسٹ تحریک اور شناخت کا احساس
پہلی عالمی جنگ میں کئی ناگا سپاہی برطانوی فوج کے ساتھ یورپ بھیجے گئے۔ جنگ کے بعد جب یہ جنگجو واپس لوٹے، تو ان کے اندر قوم پرستی اور خودمختاری کا جذبہ پیدا ہوا اور یوں ناگا نیشنلسٹ موومنٹ نے جنم لیا۔ اسی دور کی تحریک اور سیاسی احساس کو بیریندر کمار بھٹاچاریہ کے ناول ’’یارُئنگم‘‘ (1960) میں بیان کیا گیا، جس کا مطلب ہے ’’عوام کی حکومت۔‘‘
آزادی کے بعد سیاسی تحریک اور الگ ریاست کا مطالبہ
1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی ناگا قیادت نے خودمختار حیثیت کا مطالبہ جاری رکھا۔ 1957 تک یہ علاقہ صرف آسام کا ایک ضلع تھا جسے Naga Hills کہا جاتا تھا۔ 1957 میں ’’ناگا پیپلز کنونشن‘‘ (NPC) قائم ہوا، جس نے 1960 میں وزیراعظم جواہر لعل نہرو سے ملاقات کی اور ہندوستان کے اندر ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس ملاقات کے بعد 16 نکاتی معاہدہ ہوا جس نے ناگالینڈ کے قیام کی راہ ہموار کی۔
ریاست کا قیام اور نئی شناخت
4 ستمبر 1962 کو صدر جمہوریہ ہند کی منظوری کے بعد “State of Nagaland Act” پاس ہوا اور 1 دسمبر 1963 کو ناگالینڈ سرکاری طور پر بھارت کی سولہویں ریاست بن گیا۔ اسی لیے ہر سال یکم دسمبر کو ’’ناگالینڈ فاؤنڈیشن ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔
ثقافتی رنگ، قدرتی حسن اور منفرد قبائل
ناگالینڈ ریاست کے 17 انتظامی اضلاع ہیں، جن میں 17 بڑے قبائل کے ساتھ ساتھ دیگر ذیلی قبائل بھی آباد ہیں۔ ہر قبیلہ اپنے رسم و رواج، زبان اور لباس میں الگ ہے۔ ہر قبیلے کی زبان، لباس، رسومات اور تہوار کا یہی تنوع ناگالینڈ کو ثقافتی اعتبار سے اہم بناتا ہے۔
قدرتی حسن — مشرق کا سوئٹزرلینڈ
اونچے سرسبز پہاڑ، گھنے جنگلات، دلفریب وادیاں، طلوع و غروب آفتاب کے رنگ اور اپنی خوبصورتی کے باعث ناگالینڈ ’’مشرق کا سوئٹزرلینڈ‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ مقام نہ صرف سیاحوں اور فطرت پسندوں کے لیے جنت ہے بلکہ یہاں ٹریکنگ، جنگل کیمپنگ اور راک کلائمبنگ جیسے Adventure Sports بھی مشہور ہیں۔ ناگالینڈ صرف ایک جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، جنگجو روایت، مذہبی تبدیلی اور سیاسی جدوجہد کا ایک منفرد سفر ہے۔ ایک ایسا سفر جو نربلی کے قبائل سے شروع ہوا اور ہندوستان کی ایک مکمل ریاست بننے تک جاری رہا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


