Bharat Express DD Free Dish

Mukesh Ambani’s bold ambitions: ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کا ویژن — مستقبل کے کاروباروں کی تعمیر کی داستان

ممتاز صنعت کار مکیش امبانی نے عالمی شہرت یافتہ مینجمنٹ فرم McKinsey کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی کامیابی کے سفر، وژن، اور مستقبل کے کاروباروں کی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ انٹرویو McKinsey کے “Leading Asia” سیریز کا حصہ تھا، جس میں ایشیا کے نمایاں کاروباری رہنماؤں کو پیش کیا جاتا ہے۔

ریلائنس انڈسٹریزکے چیئرمین اورمنیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی۔ (فائل فوٹو)

ممبئی:ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے حالیہ انٹرویو میں McKinsey کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنے وژن، کاروباری فلسفے اور قیادت کی بنیادی اقدار پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے اور کامیاب ادارے کی بنیاد صرف منافع پر نہیں بلکہ مقصد، ٹیلنٹ اور سماجی اثرات پر ہونی چاہیے۔

والد کی سوچ، ادارے کی بنیاد

مکیش امبانی نے انٹرویو کی شروعات اپنے والد، دھیرو بھائی امبانی کے وژن سے کی۔ ان کے مطابق ان کے والد ایک اسکول ٹیچر کے بیٹے تھے جنہوں نے یمن میں ایک پیٹرول پمپ پر کام کر کے 100 ڈالر بچائے اور 1960 میں بمبئی آ کر ایک میز، ایک کرسی، اور ایک ٹیلی فون سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ انہوں نے پولییسٹر ٹیکسٹائلز کے شعبے میں انقلابی قدم اٹھایا، جو اُس وقت صرف امیر طبقے کی پہنچ میں تھا۔ انہوں نے نہ صرف اس پروڈکٹ کو مقامی سطح پر تیار کیا بلکہ اسے عام ہندوستانیوں کی دسترس میں بھی لایا۔

وژن: صرف دولت نہیں، اثر کی تلاش

مکیش امبانی کا ماننا ہے کہ کاروبار شروع کرنے کا مقصد صرف ارب پتی بننا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق: “اگر آپ کاروبار صرف ارب پتی بننے کے لیے شروع کرتے ہیں تو آپ بے وقوف ہیں، لیکن اگر آپ ایک ارب لوگوں کی زندگی بدلنے کے لیے کرتے ہیں تو کامیابی ممکن ہے، اور دولت خود بخود آئے گی۔” یہی سوچ ریلائنس کے ہر قدم کی بنیاد ہے — چاہے وہ پولییسٹر ہو، ریٹیل ہو، یا جیو (Jio) جیسا ڈیجیٹل انقلاب۔

جیو: سب سے بڑی کامیابی

ریلائنس جیو کی شروعات 2016 میں ہوئی اور یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ڈیجیٹل سروس کمپنی بن گئی، جس کے صارفین کی تعداد 500 ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔ مکیش امبانی کے مطابق جیو میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ایک غیر آزمودہ مارکیٹ میں کی گئی تھی۔

کاروباری حکمت عملی: ہر پانچ سال میں نئی شکل

ریلائنس کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ہر تین سے پانچ سال میں اپنی بزنس اسٹریٹجی کو نئے سرے سے ترتیب دیتی ہے۔ اس فلیکسیبیلٹی کے ساتھ کمپنی نے توانائی، ٹیلی کمیونی کیشن، ریٹیل، فائننس، اور ڈیجیٹل سیکٹرز میں مسلسل کامیابی حاصل کی۔ اب ریلائنس گرین انرجی کے شعبے میں بھی قدم رکھ چکی ہے، اور دنیا کی سب سے بڑی گرین انرجی ایکو سسٹمز میں سے ایک بنا رہی ہے، جس میں سولر، ہائیڈروجن، بایو انرجی، اور بیٹریز شامل ہیں۔

قیادت کا فلسفہ: کردار، صلاحیت اور ثقافت

مکیش امبانی کے مطابق ادارے میں “کردار” (Character) اور “صلاحیت” (Competence) سب سے اہم ہیں، لیکن کردار کو صلاحیت پر فوقیت حاصل ہے، کیونکہ صلاحیت کو تربیت دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، لیکن کردار فطری ہوتا ہے۔ ریلائنس میں ادارہ جاتی ثقافت پر خاص زور دیا جاتا ہے، جہاں ہر ملازم کو نہ صرف ادارے کے ویژن سے ہم آہنگ کیا جاتا ہے بلکہ انہیں غیر معمولی کام کرنے کے لیے مکمل اختیار اور حوصلہ بھی دیا جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی کا کردار: خودکفالت سے عالمی قیادت تک

امبانی کے مطابق ماضی میں ہندوستان کو ٹیکنالوجی درآمد کرنی پڑتی تھی، لیکن اب ریلائنس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خود ٹیکنالوجی کا مالک بنے گا۔ 5G کے آغاز کے وقت، ریلائنس نے مکمل نیٹ ورک، ہارڈویئر، اور سافٹ ویئر خود تیار کیا، جس میں صرف 20 فیصد شراکت داری بیرونی کمپنیز (Ericsson/Nokia) سے تھی۔ اب کمپنی ڈیپ ٹیک (Deep Tech) اور ایڈوانس مینوفیکچرنگ میں آگے بڑھ رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (AI) بھی شامل ہے۔

نوجوانوں سے توقعات اور مستقبل کی جھلک

مکیش امبانی نے اس بات پر زور دیا کہ آج کا نوجوان ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے وژن میں واضح ہو۔ ان کے مطابق،”اگر مقصد واضح ہو، تو ٹیکنالوجی آپ کو اپنے شمالی ستارے (North Star) تک لے جائے گی۔”

ادارہ ایک عمل ہے، ایک وراثت

ان کے مطابق ریلائنس ایک ادارہ ہے جو اُن سے اور اُن کے والد سے آگے تک زندہ رہنا چاہیے۔”میرا وعدہ اپنے والد سے ہے کہ ریلائنس مجھ سے اور اُن سے آگے بھی ہندوستان اور انسانیت کی خدمت کرے گا۔” آخر میں، امبانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریلائنس نہ صرف اپنے 50 سال مکمل کرے گا بلکہ 100 سال بعد بھی بھارت اور انسانیت کی خدمت کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق، “ہم ایک ایسا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جو ہم سے آگے بھی قائم و دائم رہے۔” یہ انٹرویو کاروباری دنیا کے لیے ایک تحریک ہے کہ وژن، مقاصد کی وضاحت، اور عوامی فلاح کا جذبہ کس طرح ایک کمپنی کو دنیا کی صف اول کی کمپنیوں میں شامل کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read