Bharat Express DD Free Dish

Malikarjun Kharge Controversial Remarks: پہلے ماں، اب وزیر اعظم مودی کے والد پر تبصرہ، ملیکارجن کھڑگے کے بیان پر سیاسی ہنگامہ

پٹنہ میں کانگریس صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے، بی جے پی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کھڑگے اور راہل گاندھی سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا

پٹنہ: کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کے ایک بیان نے بہار سے لے کر قومی سیاست تک تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک پروگرام کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کھڑگے کے نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس کو نشانہ بنایا ہے۔ اس واقعے کے دوران ایک نوجوان کو کانگریس کارکنوں کی جانب سے مبینہ طور پر پیٹے جانے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

کھڑگے نے کیا کہا؟

بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کی 139ویں یوم پیدائش کے موقع پر پٹنہ میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اس وقت ناراض ہو گئے، جب ایک نوجوان نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’’مودی نہیں جائے گا‘‘۔ اس پر کھڑگے نے جواب میں کہا، ’’مودی کا باپ بھی جائے گا۔‘‘ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا۔ کانگریس صدر کے بیان اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پٹنہ میں کیا ہوا؟

رپورٹ کے مطابق، چھپرا کے رہنے والے سنتوش کمار نامی نوجوان نے خطاب کے دوران کہا کہ اس طرح کے دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں سے مودی کو اقتدار سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اس کے بعد کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کانگریس کارکنوں نے نوجوان کو گھیر کر مارا پیٹا اور دھکے دیتے ہوئے ہال سے باہر نکال دیا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے پھیلی، جس کے بعد بی جے پی نے کانگریس پر تنقید کی۔ خطاب کے دوران کھڑگے نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے گزشتہ 2 برسوں میں ہونے والے تمام ریاستی اسمبلی انتخابات منسوخ کرنے اور بیلٹ پیپر کے ذریعے دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔

بی جے پی نے کھڑگے اور راہل گاندھی سے معافی مانگنے کو کہا

سمراٹ چودھری کا مطالبہ: بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم کے مرحوم اہل خانہ کے خلاف اس طرح کے نامناسب الفاظ کا استعمال قابل مذمت اور ناقابل معافی ہے۔ ان کے مطابق، یہ راہل گاندھی اور کانگریس کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کھڑگے اور راہل گاندھی، دونوں سے عوامی طور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

نتن نوین کی تنقید: بہار حکومت کے وزیر نتن نوین نے کہا کہ عوامی پلیٹ فارم سے سیاسی مخالفین کے اہل خانہ کو نشانہ بنانا کانگریس کے نظریاتی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ ان کے مطابق، جب اپوزیشن کے پاس ترقی اور پالیسیوں پر بحث کرنے کے لیے کچھ نہیں رہتا تو وہ گالی گلوچ کا راستہ اختیار کرتی ہے۔

اناپورنا دیوی کا تبصرہ: مرکزی وزیر اناپورنا دیوی نے کہا کہ کبھی وزیر اعظم کی والدہ کے خلاف نامناسب تبصرے کیے جاتے ہیں اور کبھی ان کے والد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، عوام کانگریس کے اس رویے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ بی جے پی نے سوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس زبان کو کبھی غنڈوں اور بدمعاشوں سے جوڑا جاتا تھا، آج کانگریس کے قومی صدر اسی زبان کا استعمال کر رہے ہیں۔ پارٹی نے اسے سیاسی مایوسی سے تعبیر کیا۔

بیان پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا

کھڑگے کے بیان نے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بی جے پی نے جہاں اس بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا ہے، وہیں پٹنہ میں نوجوان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس تنازع کے بعد کانگریس قیادت کے بیان اور اس واقعے پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read