پریاگ راج: شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کی مبینہ توہین اور یو جی سی کے متنازعہ قواعد کے خلاف بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری کے استعفے نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے پر شنکراچاریہ اویمکتیشورانند کا سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ابھی شروعات ہے اور پورا ملک اس وقت شدید غم و غصے میں ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک افسر کے استعفے تک محدود نہیں بلکہ عوامی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔
بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری نے شنکراچاریہ کی توہین اور یو جی سی قواعد 2026 کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے ایک تفصیلی خط کے ذریعے ریاستی گورنر اور الیکشن کمیشن کو اپنا استعفیٰ ارسال کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے دونوں معاملات پر اپنی ناراضگی اور ذہنی اذیت کا اظہار کیا، جس کے بعد یہ مسئلہ پورے صوبے میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
یہ تنازعہ ماگھ میلے کے دوران مونی اماوسیہ کے دن اس وقت شروع ہوا جب شنکراچاریہ اویمکتیشورانند اور انتظامیہ کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ اس واقعے کے بعد سے شنکراچاریہ گزشتہ نو دنوں سے انشن پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یومِ جمہوریہ کے موقع پر انہوں نے اپنے شِوِر کے باہر ہی ترنگا لہرا کر قومی پرچم کو سلامی دی اور اپنے شاگردوں، عقیدت مندوں اور حامیوں کے ساتھ قومی ترانہ بھی گایا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ شِوِر کے باہر انشن پر بیٹھ گئے۔
شنکراچاریہ سے جڑے اس معاملے پر اپوزیشن جماعتیں یکجہتی کا اظہار کرتی نظر آ رہی ہیں، جس کے باعث اتر پردیش کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ حکمران جماعت کے اندر بھی اس مسئلے پر اختلافات واضح ہیں۔ جہاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، وہیں نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے شنکراچاریہ سے انشن ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سٹی مجسٹریٹ کے استعفے کی خبر جب دھرنا گاہ پر سنائی گئی تو شنکراچاریہ نے اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ النکار اگنی ہوتری کے قدم کی ستائش کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی مثبت کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ انہیں بدنام اور ذلیل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ شنکراچاریہ نے واضح کیا کہ عوامی غصہ اب رکنے والا نہیں اور یہ تحریک مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



