Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav Targets BJP: ’’بی جے پی اور اس کے ’سنگی ساتھیوں‘ کی سرگرمیوں کی بھی ہونی چاہئے قانونی جانچ…‘‘، ایس پی صدر اکھلیش یادوکا بڑا مطالبہ

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ اس کے علاوہ عوام میں یہ تجسس بھی پایا جاتا ہے کہ خفیہ سرگرمیوں میں ملوث بی جے پی کے حامیوں اور ساتھیوں کی ایسی تعمیرات کو ’دفتر‘ کہا جائے یا ’اڈہ‘؟

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو۔

لکھنؤ: اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس سے وابستہ ’سنگی ساتھیوں‘ پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح اصلی ہتھیاروں کے لائسنس کی جانچ کی جاتی ہے، اسی طرح ملک، سماج اور باہمی ہم آہنگی پر ’غیر مرئی ہتھیاروں‘ سے حملہ کرنے والوں کی سرگرمیوں کی بھی قانونی جانچ ہونی چاہئے۔

بی جے پی لیڈران کے مالی معاملات کی جانچ کا مطالبہ

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ وکلا اور عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ بی جے پی لیڈران اور ان کے ساتھیوں کی تعمیرات، چندے، جائیدادوں، بیرون ملک دوروں اور مبینہ خفیہ سرگرمیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کا مکمل حساب عوام کے سامنے لایا جائے۔ انہوں نے کہا، ’’اصل ہتھیاروں کے تو لائسنس بنتے ہیں، لیکن کچھ غیر مرئی ہتھیار بھی ہیں، جو خفیہ طور پر ملک، سماج اور باہمی محبت پر اندر سے انتہائی خطرناک حملہ کر رہے ہیں۔”

چندوں اور فنڈز کا آڈٹ کیا جائے: اکھلیش

انہوں نے کہا کہ وکیل کہہ رہے ہیں کہ لگے ہاتھ بی جے پی لیڈران کے گھروں، دکانوں، دفاتر اور اداروں کے کاغذات اور نقشے بھی طلب کرکے اُن کی قانونی حیثیت کی بھی جانچ ہو جائے۔ ساتھ ہی بی جے پی اور اُس کے حامیوں کی جانب سے تعمیرات، تقریبات اور آفات کے نام پر مختلف مقامات سے جمع کیے گئے طرح طرح کے چندوں اور فنڈز کا حساب بھی مانگا جائے اور اُن کا آڈٹ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ  ہاں عوام یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ اس بات کا قانونی پہلو بھی واضح کیا جائے کہ ’غیر رجسٹرڈ‘ لوگ زمین کس کے نام سے لے کر اپنی تعمیرات کرتے ہیں اور یہ جائیدادیں کیسے بے نامی ہیں؟

بیرون ملک دوروں پر اکھلیش کی تنقید

سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ اس کے علاوہ عوام میں یہ تجسس بھی پایا جاتا ہے کہ خفیہ سرگرمیوں میں ملوث بی جے پی کے حامیوں اور ساتھیوں کی ایسی تعمیرات کو ’دفتر‘ کہا جائے یا ’اڈہ‘؟ اکھلیش یادو نے کہا کہ ان ’سنگی ساتھی‘ غیر قانونی افراد کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے؟ اس کا پورا کچا چٹھا تلاش کرکے عوام کے سامنے لایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ خود کو نام نہاد دیسی کہنے والے ’سنگی ساتھی‘ بیرونِ ملک دوروں پر کیوں جاتے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ’سنگی ساتھی‘ نوآبادیاتی دور سے کس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی رہے ہیں؟ ان کا ماضی مخبری اور جاسوسی سے کیوں جڑا رہا ہے؟ اور یہ ’سنگی ساتھی‘ سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو کیوں خراب کرتے ہیں؟

‘مانس کے مان’ پر لاٹھیاں چلانے کا الزام

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ وکلا یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر یہ ’سنگی ساتھی‘ کس نئی سازش کے تحت ’مانس کے مان‘ پر لاٹھیاں چلوا رہے ہیں۔ اس سے قبل اکھلیش یادو نے بجلی کے نظام کو لے کر سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ بی جے پی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتر پردیش میں جو ناقابلِ برداشت بجلی بحران پیدا ہو گیا ہے، اس کے لیے عوام بجلی محکمہ کے جونیئر ملازمین یا لائن مین پر اپنا غصہ نہ نکالے۔

 ’بڑٰی بجلی آفت‘ کے لیے حکومت ذمہ دار

بجلی محکمہ کے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کی چھانٹی کے بعد وہ پہلے ہی شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ دراصل اس ’بڑٰی بجلی آفت‘ کے لیے بی جے پی حکومت، وزیرِ بجلی، بی جے پی کے اراکینِ پارلیمنٹ، اراکینِ اسمبلی، میئر، کونسلر، بجلی محکمہ کے اعلیٰ افسران اور بدعنوان ٹھیکیدار ذمہ دار ہیں، جو اس ناکام حکومت میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ سوال و جواب اِن ہی لوگوں سے کیا جانا چاہئے۔

 اکھلیش یادو کی لوگوں سے اپیل

انہوں نے کہا کہ ہماری یہ بھی گزارش ہے کہ گھروں کے بزرگوں، بیماروں اور بچوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ جب بھی بجلی آئے تو موبائل فون چارج کرلیں اور ٹارچ تیار رکھیں۔ اس بات کا بھی دھیان رکھیں کہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کوئی سماج دشمن عنصر آپ کی گاڑیوں یا گھر کے سامان پر ہاتھ صاف نہ کر جائے۔ جانوروں کا بھی خصوصی خیال رکھیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read