Urdu Conclave 2026

Khan Sir Coaching Clash Roshan Anand Arrested: نتائج کی جنگ یا کوچنگ وار؟ گیان بِندو کے روشن آنند گرفتار، بولے- کوچنگ ادارے کو تباہ کرنے کے لیے پوری سازش رچی گئی

پٹنہ میں وائرل استاد ’خان سر‘ کی کوچنگ کے باہر مارپیٹ، پتھراؤ اور فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس معاملے میں گیان بِندو کوچنگ کے ڈائریکٹر روشن آنند یادو سر کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس انہیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے گئی، اس دوران روشن آنند کافی برہم اور مشتعل نظر آئے۔

پٹنہ میں معروف استاد خان سر کی کوچنگ کے باہر طلبہ کے دو گروپوں کے درمیان جھڑپ، پتھراؤ اور مبینہ فائرنگ کے واقعے نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس دوران خان سر کی کوچنگ کے ایک سکیورٹی گارڈ کو شدید چوٹیں آئیں اور اس کا سر پھٹ گیا، جس کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تنازع خان کوچنگ کلاسز اور گیان بِندو کوچنگ کے طلبہ کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد شروع ہوا۔ دونوں جانب سے پتھراؤ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ کئی راؤنڈ فائرنگ کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔اس معاملے میں پولیس نے گیان بِندو کوچنگ کے ڈائریکٹر روشن آنند یادو کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس انہیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے گئی۔ اس دوران روشن آنند شدید ناراض اور مشتعل دکھائی دیے۔

روشن آنند نے فائرنگ کے دعووں کو مسترد کیا

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روشن آنند نے کہا کہ ان کے خلاف ایک منظم سازش رچی گئی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ کوچنگ ادارے کو بدنام اور تباہ کرنے کے لیے پورا کھیل کھیلا گیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’جب کوئی گولی چلی ہی نہیں تو خان سر نے میڈیا کے سامنے یہ کیوں کہا کہ ان کے سامنے 10 راؤنڈ فائرنگ ہوئی؟‘‘ روشن آنند نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کا واقعہ پیش ہی نہیں آیا، لیکن جان بوجھ کر ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے بڑی فائرنگ ہوئی ہو۔

دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر لگائے الزامات

اس معاملے میں خان کوچنگ کی جانب سے پولیس کو تحریری شکایت دی گئی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ گیان بِندو کوچنگ سے وابستہ افراد نے فائرنگ کی۔ دوسری جانب گیان بِندو کوچنگ کے حامیوں نے بھی خان کوچنگ کے افراد پر فائرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔

خان سر کا ردعمل

واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے خان سر نے کہا کہ ان کی کوچنگ کم فیس میں طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہی ہے اور اس کے نتائج بھی بہتر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ اسی وجہ سے اس طرح کے واقعات کو انجام دیا گیا ہو۔

مسلح پور ہاٹ علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل

واقعے کے بعد پٹنہ کا مسلح پور ہاٹ علاقہ مکمل طور پر پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ہر طرف پولیس کی سخت نگرانی ہے اور انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے مستعد ہے۔ یہ علاقہ سرکاری ملازمتوں کی تیاری کرنے والے طلبہ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ فی الحال دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں جبکہ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read