Bharat Express DD Free Dish

ISRO Chief Inaugurates Navigation Centre of Excellence : کیرالہ میں اسرو کے چیئرمین نے نیویگیشن سینٹر آف ایکسیلینس کا کیا افتتاح

بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے اننت ٹیکنالوجیز کی جانب سے قائم کیے گئے ’’نیویگیشن سینٹر آف ایکسیلینس‘‘ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس دن کو اپنے لیے نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ یہاں آکر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اسرو کے اپنے ہی خاندان کے درمیان موجود ہوں۔

ترواننت پورم: بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے اننت ٹیکنالوجیز کی جانب سے قائم کیے گئے ’’نیویگیشن سینٹر آف ایکسیلینس‘‘ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس دن کو اپنے لیے نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ یہاں آکر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اسرو کے اپنے ہی خاندان کے درمیان موجود ہوں۔

ڈاکٹر نارائنن نے کہا کہ وہ اکثر ملک کے مختلف علاقوں کے دوروں میں مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں اسرو کے دفتر میں کم ہی وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’’آج صبح میں سوچ رہا تھا کہ میں اپنا تقریباً 30 فیصد وقت ملک بھر کے سفر میں گزارتا ہوں اور دفتر میں کم رہ پاتا ہوں، جس سے کچھ بے چینی سی تھی۔ لیکن یہاں آکر وہ بے چینی بالکل ختم ہو گئی کیونکہ مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے خاندان کے بیچ ہوں‘‘۔

اسرو چیف نے نیویگیشن، گائیڈنس اور کنٹرول سسٹمز کو انتہائی ترقی یافتہ اور تکنیکی طور پر نہایت پیچیدہ شعبہ قرار دیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس میدان میں کام کرنے والے ماہرین کے مقابلے ان کا اپنا علم ’’دس فیصد سے بھی کم‘‘ ہے۔ انہوں نے 1993 میں اپنے روس کے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلی بار انہوں نے وہیں ’’لیزر جائرو اسکوپ‘‘ کا نام سنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں لیزر جائرو اسکوپ کی ڈرائنگز اور تکنیکی معلومات ہندوستان لانی تھیں۔ نہایت دشوار حالات میں ایک شخص وہ دستاویزات ہمارے کمرے میں لایا اور تب پہلی بار ہم نے اس ٹیکنالوجی کو دیکھا‘‘۔ ڈاکٹر نارائنن نے فخر کے ساتھ کہا کہ آج یہی ٹیکنالوجی ہندوستان میں نہ صرف دستیاب ہے بلکہ سرکاری ادارے میں نہیں بلکہ ایک نجی کمپنی میں کامیابی سے تیار کی جا رہی ہے، جو ملک کی ٹیکنالوجیکل طاقت میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

اسرو سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بھارت کو ’’وکسِت بھارت‘‘ یا ترقی یافتہ ملک بننا ہے تو خصوصاً اسٹریٹجک شعبوں میں درآمدات پر انحصار کم سے کم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق نیویگیشن سسٹم ہوائی جہازوں، خلائی جہازوں اور لانچ وہیکل—سب میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’تھِباوَلی راکٹ 25 سے 30 فیصد وقت کام نہیں کرتا اور جب کام کرتا ہے تو جس طرف چاہے چلا جاتا ہے۔ لیکن ہمارا لانچ وہیکل وہاں جاتا ہے جہاں ہم اسے بھیجنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے ہم سب مل کر کام کرتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر نارائنن کے بقول نیویگیشن سینٹر آف ایکسیلینس ہندوستان کے خلائی اور تکنیکی شعبے کے مستقبل کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read