Bharat Express DD Free Dish

کیرلا میں کانگریس کی خاتون رکن اسمبلی کو زبردستی گلے لگا رہا تھا پارٹی کا سینئر لیڈر، دھکّا دے کر ہٹایا دور، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

کیرلا میں پیش آنے والے اس سانحہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پرکافی وائرل ہو رہا ہے اوراسے خوب شیئرکیا جا رہا ہے۔ اس حادثہ نے پارٹی لیڈران اور صحافیوں کا دھیان بھی کھینچا۔ اب کانگریس لیڈر چیرین فلپ کے خلاف سخت ردعمل سامنے آرہے ہیں۔

Kerala Assembly Election 2026: کیرلا کے ترووننت پورم میں ریاستی کانگریس کمیٹی کے دفترسے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پرجم کروائرل ہورہا ہے۔ اس میں ایک سینئرلیڈرچیرین فلپ قانون سازپارٹی کی میٹنگ کے دوران اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے بغیراجازت کے نومنتخب رکن اسمبلی بندوکرشنا کوگلے لگانے کی کوشش کی۔ اس دوران کانگریس کی خاتون رکن اسمبلی بندوکرشنا کافی ہچکچاہٹ میں نظرآئیں، وہ پوری طرح سے بے چین ہوگئیں۔

یہ ایسا حادثہ ہے، جس نے پارٹی لیڈران اورصحافیوں کی توجہ بھی اپنی طرف کھینچ لی۔ کیونکہ بڑی تعداد میں پارٹی لیڈران اورمیڈیا کے نمائندے وہاں موجود تھے۔ ویڈیو جم کرسوشل میڈیا پر وائرل کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس لیڈرچیرین فلپ کے خلاف سخت ردعمل بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

کانگریس کے ریاستی دفترکے داخلہ گیٹ کا واقعہ

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 48 سال کی بندو کرشنا پروگرام میں پہنچیں۔ پارٹی دفتر کے داخلہ گیٹ سے اندر داخل ہوئیں۔ تبھی میڈیا کے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ بندوکرشنا سفید اور پیلے رنگ کی ساڑی پہن رکھی تھیں۔ وہ پارٹی کارکنان سے ہاتھ ملا رہی تھیں۔ اس کے بعد وہ 71 سال کے چیرین فلپ کے پاس پہنچیں۔ بندو ایک طرف ہاتھ ملانے کے لئے آگے بڑھیں تو فلپ ان سے گلے ملنے لگے۔ انہیں کرشنا کی گردن کے چاروں طرف اپنے ہاتھ ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس دوران بندو نے ان کے ہاتھ کو نیچے کردیا۔ وہ اس دوران غیرمطمئن نظرآنے لگیں۔ انہیں فلپ کو پیچھے کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس دوران فلپ نے دوسری بار وہی کوشش کی۔ اس کے بعد بندو نے ہاتھ جوڑلئے اورآگے بڑھ گئیں۔

سوشل میڈیا پرویڈیو وائرل

اس دوران بڑی تعداد میں نامہ نگاراورپارٹی کارکنان بھی موقع پرموجود تھے۔ سوشل میڈیا پراس حادثہ سے متعلق سخت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کئی لوگوں نے چیرین فلپ پربندو کرشنا کی بے چینی کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ کئی یوزرس (صارف) نے کہا ہے کہ ذاتی حدود اوردائروں کا فوری طورپراحترام کیا جانا چاہئے۔ اس وقت کسی بھی لیڈرکی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read