راجستھان کے مشہور مذہبی مقام ناتھدوارہ میں جودھپور کے رہائشی ایک زیورات کے تاجر کی لاش ملنے سے سنسنی پھیل گئی ہے۔ متوفی کی شناخت دنیش (ولد گووند ٹانک) کے طور پر ہوئی ہے، جو گزشتہ تین دنوں سے کاروباری سلسلے میں ناتھدوارہ آئے ہوئے تھے۔تاہم یہ معاملہ ایک عام خودکشی کا نہیں لگ رہا، کیونکہ موت سے پہلے دنیش نے ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو بنا کر اپنے اہلِ خانہ کو بھیجی تھی۔ اس ویڈیو میں انہوں نے ذہنی اذیت اور پولیس کے دباؤ کا ذکر کیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ مزید سنجیدہ اور مشتبہ ہو گیا ہے۔
اُدھار کی رقم وصول کرنے آیا تھا تاجر
پولیس سے حاصل معلومات کے مطابق دنیش جودھپور سے کچی چاندی لا کر ناتھدوارہ، کَپاسن اور فتح نگر کے کاریگروں کو دیتے تھے اور ان سے زیورات تیار کرواتے تھے۔ وہ تاجروں کو دی گئی اُدھاری اور تقریباً 6 کلو چاندی واپس لینے کے لیے ناتھدوارہ آئے تھے۔ وہ بس اسٹینڈ علاقے کے رہائشی وجے سونی کے فلیٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے، جس نے انہیں 10 تاریخ کو چاندی واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پیر کی صبح جب وجے فلیٹ پر پہنچا تو وہاں دنیش کی لاش پڑی ہوئی ملی۔
ویڈیو میں پولیس اور دو افراد پر سنگین الزامات
اس واقعے کا سب سے چونکا دینے والا پہلو وہ ویڈیو ہے جو دنیش نے موت سے چند گھنٹے پہلے رات تقریباً 1:30 بجے اپنے سالے کو واٹس ایپ پر بھیجی تھی۔ ویڈیو میں دنیش انتہائی پریشان اور جذباتی نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر ساگر مراٹھا اور راکیش سونی نامی افراد پر الزام لگایا کہ انہوں نے انہیں ڈرایا اور دھمکایا۔ سب سے سنگین الزام پولیس پر لگایا گیا ہے۔ دنیش کے مطابق انہیں زبردستی پولیس چوکی لے جایا گیا جہاں دباؤ ڈال کر ان سے جھوٹی تحریری کارروائی کروائی گئی۔ ویڈیو میں انہوں نے کہا: “میں بہت پریشان ہوں اور اب مجھے اپنا جسم چھوڑنا پڑے گا۔”
جودھپور پولیس کے کردار پر اٹھنے لگے سوال
تاجر کے اس بیان نے جودھپور اور ناتھدوارہ پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر پولیس چوکی میں آدھی رات کو ایسی کون سی تحریری کارروائی ہوئی جس نے ایک خوشحال تاجر کو یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا؟ کیا پولیس ان بااثر افراد کے ساتھ ملی ہوئی تھی؟ فی الحال متوفی کے اہل خانہ نے باضابطہ رپورٹ درج نہیں کرائی ہے، جس کی وجہ سے پوسٹ مارٹم کا عمل بھی رکا ہوا ہے۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے اور لوگ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




