نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اساتذہ کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کے درمیان وائس چانسلر سنتی شری دھولی پڈی پنڈت نے ان الزامات کو ’بدنیتی پر مبنی مہم‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں اور میڈیا کے ایک حصے کی جانب سے جھوٹے اور گمراہ کن دعووں کے ذریعے ان کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) اور جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن (جے این یو ٹی اے) ان کے خلاف اس مہم کا حصہ ہیں۔
’کوئی ثبوت نہیں، صرف جھوٹا پروپیگنڈا‘
سنتی شری دھولی پڈی پنڈت نے کہا کہ میڈیا کے کچھ حصے ان کے خلاف ’’جھوٹے، مسخ شدہ، منتخب اور بے بنیاد بیانیوں‘‘ کے ذریعے بدنیتی پر مبنی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ساڑھے چار برس کے دوران یونیورسٹی میں، خصوصاً ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات کے لیے، انتہائی شفاف طریقے سے ریکارڈ تعداد میں بھرتیاں کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں جے این یو ایس یو اور جے این یو ٹی اے کی جانب سے ایک ’شرمناک مہم‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کوئی ثبوت نہیں، صرف جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔‘‘
جے این یو ایس یو اور جے این یو ٹی اے نے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا
13 اگست کو سنتی شری دھولی پڈی پنڈت کے خلاف الزامات کے بعد جے این یو ایس یو اور جے این یو ٹی اے نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ دونوں تنظیموں نے الزام عائد کیا تھا کہ تقرریوں، ترقیوں اور رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ سے متعلق قواعد کو میرٹ یا طے شدہ سینیارٹی کے اصولوں کے بجائے ذاتی یا سیاسی و نظریاتی وابستگیوں کی بنیاد پر من مانے طریقے سے لاگو کیا گیا۔ تنظیموں نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈین اور چیئرپرسن کی تقرری میں قائم شدہ روٹیشن سسٹم کو نظرانداز کیا گیا۔
’بائیں بازو سے وابستہ ناراض افراد کے پیچھے سیاسی مہم‘
جے این یو انتظامیہ نے جاری ایک بیان میں ’دی رپورٹرز کلیکٹو‘ کی ’فرینڈلی ہائرز‘ نامی رپورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ یہ رپورٹ جے این یو ٹی اے سے وابستہ بائیں بازو کے ناراض افراد کی جانب سے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ضوابط اور جے این یو کے طریقہ کار کی منتخب تشریح پر مبنی ’بدنیتی پر مبنی مہم‘ ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ ایک سیاسی مہم ہے، جس کا مقصد یونیورسٹی اور اس کے ذریعے حکومتِ ہند کو بدنام کرنا ہے، خصوصاً دہلی ہائی کورٹ میں دو ’ہارڈکور اربن نکسل‘ مقدمات میں شکست کے پس منظر میں۔
چار سال میں 400 سے زائد انٹرویوز
جے این یو انتظامیہ نے بتایا کہ فروری 2022 سے یونیورسٹی میں 400 سے زائد انٹرویوز کیے گئے اور 200 سے زیادہ عہدے پُر کیے گئے، جو یونیورسٹی کی تاریخ میں بھرتیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ انتظامیہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ان بھرتیوں میں تقریباً 70 فیصد افراد مختلف ریزرو اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ انٹرویوز کے حوالے سے کسی بھی امیدوار کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان اعداد و شمار کو اپنی بھرتی کے عمل کی شفافیت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے الزامات کو سیاسی نوعیت کی مہم قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




