Bharat Express DD Free Dish

Jamui Girl Harassment Case: انسانیت شرمسار… انہیں کب شرم آئے گی؟ جموئی واقعے کو جے ڈی یو ریاستی صدر نے بتایا ’چھوٹا موٹا واقعہ‘

نابالغ لڑکے اور لڑکی سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر سیاست گرم، جے ڈی یو کے بہار ریاستی صدر اومیش سنگھ کشواہا نے واقعے کو ’چھٹ پٹ واقعہ‘ قرار دیا، پولیس نے 5 ملزمان کی شناخت کی، 3 حراست میں

بہار کے جموئی میں نابالغ لڑکے اور لڑکی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور جنسی زیادتی کے معاملے کے بعد سیاسی بیان بازی بھی شروع ہو گئی ہے۔ جے ڈی یو کے بہار ریاستی صدر اومیش سنگھ کشواہا نے اس واقعے کو ’چھٹ پٹ واقعہ‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کا موازنہ لالو پرساد یادو کے دور سے کرتے ہوئے این ڈی اے حکومت کو حساس قرار دیا۔

’چھٹ پٹ واقعہ ہوتا ہے تو ہم کارروائی کرتے ہیں‘

جموئی-لکھی سرائے سرحد پر ایک ساتھ گھوم رہے نابالغ لڑکے اور لڑکی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد لوگوں میں ناراضی دیکھی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں کچھ افراد دونوں کو روکتے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی معاملے پر جے ڈی یو کے ریاستی صدر اومیش سنگھ کشواہا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی چھٹ پٹ واقعہ پیش آتا ہے تو حکومت اس پر کارروائی کرتی ہے۔انہوں نے اپنی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کی موجودہ حکومت حساس ہے۔

لالو کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کا دفاع

اومیش کشواہا نے اپنی حکومت کا موازنہ 2005 سے پہلے کے بہار سے کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ریاست کے حالات کیسے تھے، یہ سب نے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے بھی خوف محسوس کرتے تھے اور کسی طرح اپنی زندگی گزار رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے جموئی کے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف جلد از جلد کارروائی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر بیان پر ناراضی

جے ڈی یو ریاستی صدر کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بھی کئی لوگوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ بعض صارفین نے ان کے بیان کو غیر حساس قرار دیا اور واقعے کو ’چھٹ پٹ واقعہ‘ کہنے پر سوال اٹھائے۔

پولیس نے 5 ملزمان کی شناخت کی

جموئی پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ جموئی کے ایس پی وشواجیت دیال کے مطابق اس سنگین معاملے میں پولیس نے 5 ملزمان کی شناخت کر لی ہے، جبکہ 3 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق دیگر ملزمان کی شناخت اور واقعے میں ان کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read