نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اسلام کسی بے گناہ کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ مولانا مدنی نے واضح طور پر کہا کہ “قاتل کا قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں، قانون کے مطابق اس کا بھی قتل کیا جائے۔” مولانا مدنی نے کہا کہ یہ حملہ ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ جو بھی اس حملے کا ذمہ دار ہے، اس کے خلاف سخت سے سخت قدم اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ حملہ آور کہاں سے آئے، لیکن جنہوں نے ظلم کیا ہے، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ “اگر حکومت واقعی ملک میں امن و امان چاہتی ہے تو اسے نفرت انگیز پالیسیوں سے باز آنا ہوگا۔ ہندو مسلم کے درمیان نفرت پھیلانا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک میں امن قائم رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات پر سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے۔
گزشتہ روز آل انڈیا ٹریننگ کانفرنس کے دوران صدارت کرتے ہوئے ارشد مدنی نے پہلگام میں سیاحوں پرحالیہ بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ کانفرنس میں متفقہ طورپرمنظور کی گئی قرارداد میں تنظیم نے معصوم جانوں کے اتلاف پرگہرے دکھ کا اظہار کیا اورجاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی گئی۔ انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے تاریخی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، جمعیۃ نے قومی اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے کے لیے اپنی مستقل کوششوں پرزوردیا تھا۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ”دہشت گردی ایک کینسرہے، جو اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے، جو امن اور بھائی چارے کے لیے کھڑی ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ایسے مظالم کے خلاف آواز اٹھائے۔“
غیر قانونی تارکین وطن کو نکالا جائے
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بنگلہ دیش میں غیر قانونی طور پر کوئی شخص رہ رہا ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں، تو اسے ملک بدر کر دینا چاہیے۔ اسی طرح سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں اگر ہندوستانی شہری غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون کی بالادستی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ کسی بھی شخص کو کسی دوسرے ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے کا حق حاصل نہیں، خواہ وہ کسی بھی ملک کا شہری ہو۔ تاہم، بیان میں مغربی بنگال کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ “جو لوگ بنگال میں رہ رہے ہیں، وہ بنگالی ہیں، ان کو بنگلہ دیشی قرار دینا غیر مناسب اور حقائق کے منافی ہے۔”
مزید کہا گیا کہ شہریوں کو ان کی زبان، لباس یا مذہب کی بنیاد پر مشکوک قرار دینا سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرے اور بلاوجہ کسی بھی شہری کو غیر ملکی قرار دے کر اس کی شہریت یا شناخت پر سوال نہ اٹھائے۔
اسلام میں ظلم کی کوئی گنجائش نہیں
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اسلام میں تو کتے اور بلی پر بھی ظلم کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے، چہ جائیکہ کسی بے گناہ انسان کا قتل۔ اسلام میں بے گناہ کے قتل کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔”
مولانا مدنی نے کہا کہ اسلام ایک پُرامن مذہب ہے، جو دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب بھی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے دنیا بھر میں اسلام کے خلاف مختلف طرح کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے جا رہے ہیں، چاہے وہ میڈیا کے ذریعے ہوں یا عالمی پالیسیوں کے ذریعے۔ لیکن اس کے باوجود اسلام کا پیغام اور اس کا پھیلاؤ جاری ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ مذہب کو نفرت اور سیاست کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ انسانیت، رواداری اور امن کے اصولوں کو فروغ دیا جائے، جن کی بنیاد پر اسلام قائم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
