(پٹنہ): راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر انور پاشا نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے تناظر میں ایک پرزور بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ایران کی فتح نہ صرف ایک ملک کی فتح ہوگی بلکہ یہ پوری دنیا میں جمہوریت اور انسانیت کی فتح ہوگی۔
نیٹو کا انکار: امریکی عزائم کو شرمندہ کرنے والا لمحہ
پروفیسر پاشا نے اس پیشرفت کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر نیٹو ممالک نے امریکہ کو ’’انگوٹھا دکھا‘‘ کر ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’یہ یقیناً ایک خوشگوار ڈیولپمنٹ ہے کہ بیشتر نیٹو ممالک نے امریکہ کو انگوٹھا دکھاتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے اس فیصلے کو خاص طور پر اہم قرار دیا کہ ان ممالک کی اکثریت عیسائی آبادی پر مشتمل ہے اور ٹرمپ کی جانب سے ’’صلیبی اتحاد‘‘ کے نعرے کے باوجود انہوں ناحق جنگ میں شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا۔
عرب حکمرانوں کی غلامانہ ذہنیت اور جمہوریت کا فقدان
پروفیسر پاشا نے عرب ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عرب ممالک کے لیے اپنی غیرت کو جگانے اور خود احتسابی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’عرب ممالک جو کہ اسلامی اتحاد کا جھوٹا راگ الاپنے کے عادی ہیں، سامراجی دادا یعنی امریکہ اور صیہونی اسرائیل کی غلامی کا طوق پہننے پر نازاں ہیں۔‘‘ انہوں نے اس کی بنیادی وجہ ان ممالک میں جمہوریت کا فقدان قرار دیا۔ ان کے مطابق، اگر ان ممالک میں جمہوریت ہوتی تو وہ کبھی اپنی سرزمین کو امریکی فوجی اڈوں میں تبدیل ہونے اور عراق، افغانستان اور ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہ دیتے۔
امریکی مفاد اور عرب وسائل کا استحصال
آر جے ڈی رہنما نے واضح کیا کہ امریکہ عرب دنیا پر اپنا تسلط قائم کرکے دوہرا مفاد حاصل کرتا ہے۔ ایک تو وہ خطے کے قدرتی وسائل کا بے دریغ استحصال کرکے اپنی معیشت کو مضبوط کرتا ہے، اور دوسرا یہ کہ پورے ایشیا بالخصوص مسلم ممالک پر اپنا جغرافیائی و سیاسی تسلط قائم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’صد حیف کہ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ عرب ممالک کے فرضی حکمراں وفادار کتے کی مانند امریکہ کے سامنے دم ہلانے کو اپنے لیے اعزاز گردانتے ہیں۔‘‘
ایران کی جمہوریت: امریکی اندیشوں کی اصل جڑ
پروفیسر پاشا نے ایران کے تاریخی کارنامے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایرانی رہنماؤں نے پہلوی شاہوں کی عیاشیوں اور امریکی استحصال کا خاتمہ کرکے ایران کو ایک جمہوری ملک میں تبدیل کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی جمہوریت کے قیام کے بعد سے امریکہ کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ اگر ایران مضبوط ہوا تو خطے میں امریکی دادا گیری کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسی لیے وہ سینکشنز، تنہائی اور جوہری طاقت بننے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
صیہونی سازشوں کا خاتمہ اور فلسطین کی آزادی
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا اصل درد یہ ہے کہ اگر یہ ’’سخت جان ایرانی جمہوری حکومت‘‘ نیوکلیئر پاور بننے میں کامیاب ہو گئی تو نہ صرف اسرائیل کی صیہونی سازشوں کا صفایا ہو جائے گا بلکہ فلسطینی عوام کو اپنا ملک واپس مل جائے گا اور صیہونی ظلم پر ہمیشہ کے لیے لگام لگ جائے گی۔
ایران کی حکمت عملی: عوام اور محلات محفوظ، صرف امریکی اڈے نشانے پر
پروفیسر پاشا نے ایران کی صلح پسندانہ پالیسی اور ملی اخوت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے پڑوسی عرب ممالک کے عوام، شیخوں کے محلات یا فوج کو کبھی نشانہ نہیں بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بے حد محتاط طریقے سے صرف اور صرف عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ہی نشانہ بنایا ہے جہاں سے امریکہ مسلسل ایران پر حملہ کرنے کی سازش کو انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ خود ہی عرب عوام کو ’’ہیومن شیلڈ‘‘ کے طور پر استعمال کرکے ایران کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کربلائی شان اور مردانہ وار مقابلہ
پروفیسر پاشا نے کہا کہ آج ایران پوری دنیا کے سامنے ایک مثال بن کر ابھرا ہے۔ 45 برسوں سے امریکی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اس نے اسلام دشمن اور صیہونی طاقتوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور نہ ہی اس کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔ انہوں نے شاعری کی زبان میں ایران کے جذبے کو بیان کرتے ہوئے کہا:
’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘
’’جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے!‘‘
انسانیت کی بقا کی جنگ
اپنے بیان کے آخر میں پروفیسر پاشا نے کہا کہ آج ایران صرف اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ وہ انسانیت کی بقا، جمہوریت، خود مختاری اور سامراجی و صیہونی دادا گیری کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس جنگ میں امریکہ کی شکست کو ایک نئے عالمی نظام کے قیام کا پیش خیمہ قرار دیا۔
تمام امن پسند عوام سے اپیل
پروفیسر انور پاشا نے دنیا بھر کے امن و انصاف پسند عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلا تفریق مذہب و ملت حق کی حمایت میں اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ وہ اس جنگ میں پوشیدہ مثبت امکانات دیکھ رہے ہیں اور ایران کی فتح عالمی امن و انصاف کی فتح ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

