مدھیہ پردیش کی ’منی ممبئی‘ کہلانے والے شہر اندور سے پولیس کو شرمسار کرنے والی خبر سامنے آئی ہے۔ عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پولیس نے بدمعاشوں کا جلوس تو نکالا، مگر بعد میں انکشاف ہوا کہ پوری کارروائی محض ایک منصوبہ بند ڈرامہ تھی۔ اندور میں ایک سنگین جرم کے دو ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا تاثر دینے کے لیے پولیس پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر 20 ہزار روپے لے کر پورا کھیل رچایا۔ عوام کو یہ دکھانے کے لیے کہ ملزمان کو خوب سزا دی گئی ہے، ان کے ہاتھوں پر نقلی پلاسٹر باندھ کر انہیں سڑکوں پر لنگڑاتے ہوئے گھمایا گیا، لیکن جیسے ہی وہ جیل کے مرکزی دروازے پر پہنچے، دونوں ملزمان نے جعلی پٹیاں اتار کر پھینک دیں۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اندور پولیس محکمہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
20 ہزار روپے میں طے ہوا ’سزا کا ڈرامہ‘
اطلاعات کے مطابق اندور پولیس نے ایک سنگین واردات میں ملوث دو عادی مجرموں کو گرفتار کیا تھا۔ واقعے سے مشتعل مقامی لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ملزمان کو سرِعام سزا دی جائے اور ان کا جلوس نکالا جائے۔ تاہم الزام ہے کہ پولیس اور ملزمان کے درمیان کارروائی کا صرف دکھاوا کرنے کے لیے 20 ہزار روپے میں مبینہ طور پر سودے بازی ہوئی۔
سڑک پر لنگڑاتے رہے، جیل کے دروازے پر اتار دیا نقلی پلاسٹر
مبینہ معاہدے کے تحت پولیس نے دونوں ملزمان کے ہاتھوں پر نقلی پلاسٹر باندھا اور انہیں زخمی ظاہر کرتے ہوئے سڑکوں پر گھمایا، تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ پولیس نے ان کے ساتھ سختی کی ہے۔ لیکن یہ ڈرامہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ جیل میں داخل ہونے سے قبل مرکزی گیٹ پر ہی دونوں ملزمان نے اپنے ہاتھوں سے جعلی پٹیاں اتار کر پھینک دیں۔
वाह रे इंदौर की नकली प्लास्टर वाली पुलिस…
इंदौर में दो अपराधियों को किसी संगीन जुर्म में पकड़ा गया. जनता की मांग थी कि इनकी पिटाई की जाए और पब्लिक जुलूस निकाला जाए.
पुलिस और अपराधियों के बीच 20,000 रुपए में सौदा तय हुआ. दोनों अपराधियों के हाथ में नकली प्लास्टर लगा कर लंगड़ाते… pic.twitter.com/M76BYZw7CN— Ruby Arun रूबी अरुण (@arunruby08) July 29, 2026
ویڈیو وائرل ہوتے ہی پولیس محکمہ میں کھلبلی
جیل کے دروازے پر نقلی پلاسٹر اتارنے کا پورا منظر کسی نے اپنے موبائل کیمرے میں قید کر لیا، جو اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس کی مبینہ ملی بھگت اور کارروائی کے ڈرامے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ اندور پولیس محکمہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ الزام ہے کہ اعلیٰ حکام معاملے کو دبانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



