Bharat Express DD Free Dish

India Balance of Trade: برآمدات میں اضافہ اور سروس سیکٹر کے سرپلس سے بھارت کا تجارتی خسارہ کم: رپورٹ

مالی سال 2026 میں مجموعی برآمدات میں 1 فیصد اضافہ ہوا، جس میں امریکہ کے ٹیرف کے اثر کو نئے بازاروں میں برآمدات بڑھا کر متوازن کیا گیا۔اشیا کے تجارتی خسارے میں کمی کی بڑی وجہ سونے کی درآمد میں 59 فیصد اور چاندی کی درآمد میں 63 فیصد کی گراوٹ رہی۔

نئی دہلی :بھارت کی بیرونی اقتصادی صورتحال مارچ 2026 میں مضبوط رہی، کیونکہ اشیا کے تجارتی خسارے میں کمی آ کر 21 ارب ڈالر رہ گئی۔ یہ کمی بنیادی طور پر قیمتی دھاتوں کی درآمد میں تیز گراوٹ اور برآمدات میں بہتری کی وجہ سے ہوئی۔ ساتھ ہی مضبوط سروس سیکٹر کے سرپلس نے اس خسارے کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بات ایم کے گلوبل فنانشل  سروسزکی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں کہی گئی۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے دوران بھارت کی مجموعی درآمدات تقریباً 6 فیصد کم ہو کر 59.6 ارب ڈالر رہ گئیں، جب کہ کل برآمدات 6 فیصد بڑھ کر 38.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی دوران نیٹ سروس برآمدات بڑھ کر 18.2 ارب ڈالر ہو گئیں اور مالی سال 2026 میں اس میں 13 فیصد کی نمایاں ترقی درج کی گئی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود تیل کی درآمدات میں تقریباً 6 فیصد ماہانہ کمی آئی۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث درآمدی مقدار میں 35 سے 40 فیصد تک کمی بتائی گئی۔ مالی سال 2026 میں مجموعی برآمدات میں 1 فیصد اضافہ ہوا، جس میں امریکہ کے ٹیرف کے اثر کو نئے بازاروں میں برآمدات بڑھا کر متوازن کیا گیا۔اشیا کے تجارتی خسارے میں کمی کی بڑی وجہ سونے کی درآمد میں 59 فیصد اور چاندی کی درآمد میں 63 فیصد کی گراوٹ رہی۔آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث خام تیل کی درآمدی مقدار میں 35 سے 40 فیصد کمی آئی، جبکہ اس کے برعکس تیل کی برآمدات تقریباً 51 فیصد بڑھ کر 5.2 ارب ڈالر ہو گئیں، جو مئی 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو برآمدات میں بالترتیب 44 فیصد اور 60 فیصد کی کمی آئی۔ اس کا اثر رتن و زیورات کی برآمدات پر بھی پڑا، جو تقریباً 22 فیصد کم ہو گئیں۔

رپورٹ میں مالی سال 2027 کے لیے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر برینٹ کروڈ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل رہتی ہے تو جاری کھاتہ خسارہ (CAD)  جی ڈی پی کا تقریباً 1.7 فیصد رہ سکتا ہے، جبکہ ادائیگیوں کے توازن (BOP) میں 35 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں سروس برآمدات مضبوط رہیں، جس میں گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سی) کا بڑا کردار رہا۔ تاہم اگر مشرق وسطیٰ کا بحران طویل ہوا تو مالی سال 2027 میں عالمی اقتصادی سست روی کے باعث اس شعبے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read