بھارت کی الیکٹرانکس برآمدات نے حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی پروڈکشن لنکڈ انسنٹیٹو (پی ایل آئی) اسکیم اور الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کلسٹرز ہیں۔ انڈیا الیکٹرانکس اینڈ سیمی کنڈکٹر ایسوسی ایشن (آئی ای ایس اے) کے صدر اشوک چندک نے بدھ کے روز آئی اے این ایس کو بتایا کہ ان اقدامات نے نہ صرف مقامی پیداوار کو فروغ دیا بلکہ بھارت کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بھی بنایا ہے۔
چندک کے مطابق، پی ایل آئی اسکیم نے بھارت کے الیکٹرانکس سیکٹر میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا اور برآمدات کو تقویت ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت موبائل فونز کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، جو بھارت کی معاشی ترقی اور عالمی مارکیٹ میں اس کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا ثبوت ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بھارت کی الیکٹرانکس برآمدات مالی سال 2024-25 کے پہلے گیارہ ماہ میں 35 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں، اور یہ سیکٹر اب ملک کی تیسری سب سے بڑی برآمدی صنعت بن گیا ہے۔ اس میں موبائل فونز کی برآمدات کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے، جو تقریباً 1.75 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ اس سے نہ صرف معاشی ترقی ہوئی بلکہ خواتین اور چھوٹے درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے لاکھوں نئی نوکریاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔
چندک نے یہ بھی بتایا کہ بھارت اب الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے عالمی سپلائی چین میں ایک اہم کھلاڑی بن رہا ہے۔ پی ایل آئی اسکیم کے تحت دی جانے والی مراعات اور سہولیات نے بڑی عالمی کمپنیوں جیسے کہ ایپل اور سیمسنگ کو بھارت میں اپنی پیداواری سہولیات بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے نہ صرف درآمدات پر انحصار کم ہوا بلکہ بھارت کو الیکٹرانکس کی عالمی منڈی میں ایک مضبوط مقام حاصل ہوا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

