Bharat Express DD Free Dish

Electronics Sector

بھارت کے الیکٹرانکس شعبے میں تیزی سے ہو رہی ترقی نے خواتین کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنَو نے پیر کے روز کہا کہ یہ شعبہ خاص طور پر خواتین کے لیے بلیو کالر ملازمتوں کا ایک مضبوط ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ ’’پہلے تیل بلیک گولڈ تھا، اب چپس ڈیجیٹل ڈائمنڈ ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ 600 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ برسوں میں یہ 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ وزیراعظم مودی نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اس مارکیٹ میں اہم حصہ حاصل کرے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کا یہ سفر اسے عالمی الیکٹرانکس سپلائی چین میں ایک اہم شراکت دار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پی ایل آئی اسکیم کے تحت دیے گئے مراعات نے بڑی عالمی کمپنیوں جیسے کہ ایپل اور سیمسنگ کو بھارت میں اپنی پیداواری سہولیات بڑھانے پر آمادہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، بھارت کی الیکٹرانکس برآمدات مالی سال 2024-25 کے پہلے گیارہ ماہ میں 35 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں، اور یہ سیکٹر اب ملک کی تیسری سب سے بڑی برآمدی صنعت بن گیا ہے۔

تمل ناڈو میں زیٹورک الیکٹرانکس کی نئی مینوفیکچرنگ عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے وزارت الیکٹرنک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ ہندوستان کی الیکٹرانک انڈسٹری دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ سیکٹر بننے کے لیے تیار ہے۔