Bharat Express DD Free Dish

Indian economy ‘resilient’: ہندوستانی معیشت ‘نازک’ عالمی ترقی کے نقطہ نظر کے باوجود ‘لچکدار’: آر بی آئی بلیٹن

بلیٹن نے یہ نوٹ کیا کہ بھارت کی معیشت کو اپنی ترقی جاری رکھنے کے لیے مضبوط اندرونی طلب، مستحکم سرمایہ کاری، اور سرکاری اخراجات سے مدد مل رہی ہے، خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر حکومتی توجہ سے۔

آر بی آئی کی رپورٹ

ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے اپنے تازہ ترین ماہانہ بلیٹن میں کہا ہے کہ عالمی معاشی ترقی کے نازک امکانات کے باوجود بھارتی معیشت اپنی مضبوطی اور لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بلیٹن کے مطابق، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، جیسے کہ امریکی صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات (ٹیرف) کے اثرات سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال، عالمی معیشت کے لیے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ تاہم، حالیہ طور پر امریکی صدر کی جانب سے ان محصولات کو روکنے کے فیصلے سے عالمی مالیاتی منڈیوں کو کچھ ریلیف ملا ہے، جس سے اتار چڑھاؤ میں کمی آئی ہے۔ اس کے باوجود، بھارت کی معیشت اپنے مضبوط معاشی بنیادی ڈھانچے کی بدولت ان عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ بلیٹن میں کہا گیا کہ بھارت کی معاشی ترقی اپنے اندرونی عوامل جیسے کہ زرعی شعبے کی مضبوط کارکردگی اور بہتر ہوتی ہوئی صارفین کی طلب کی وجہ سے مستحکم ہے۔

RBI کے بلیٹن نے بتایا کہ بھارت کی معیشت نے حالیہ مہینوں میں کئی شعبوں میں بہتری دکھائی ہے، خاص طور پر زرعی شعبے نے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، صارفین کی طلب میں بھی بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے، جو معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے رہا ہے۔ بلیٹن کے مطابق، اپریل 2025 میں مینوفیکچرنگ سیکٹر نے ملازمتوں میں اضافے اور خریداری کی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ اپنی رفتار برقرار رکھی، جبکہ سروسز سیکٹر نے نئے کاروباروں اور روزگار کے مواقع میں نمایاں توسیع دیکھی۔ ان عوامل نے بھارتی معیشت کو عالمی معاشی دباؤ کے باوجود اپنی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ تاہم، بلیٹن نے یہ بھی خبردار کیا کہ عالمی تجارت میں تناؤ اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بھارت کی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے مضبوط معاشی بنیادی اصول اسے ان چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

RBI کے گورنر سنجے ملہوترا نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں کہا کہ بھارت عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کے باوجود اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ RBI نے مالی سال 2026 کے لیے بھارت کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.5 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جو کہ عالمی سطح پر سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ تاہم، گورنر نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں، خاص طور پر موسمی حالات اور عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے، جو افراط زر پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ RBI اپنی پالیسیوں کے ذریعے مالیاتی منڈیوں کو مستحکم رکھنے اور خوردہ سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، جس میں ‘RBI Retail Direct’ سہولت جیسے اقدامات شامل ہیں۔

بلیٹن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بھارت کی معیشت کو اپنی ترقی جاری رکھنے کے لیے مضبوط اندرونی طلب، مستحکم سرمایہ کاری، اور سرکاری اخراجات سے مدد مل رہی ہے، خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر حکومتی توجہ سے۔ اس کے علاوہ، سروسز ایکسپورٹس میں اضافہ بھی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم، بلیٹن نے خبردار کیا کہ حالیہ مہینوں میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں کمی اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل نے مقامی ایکوئٹی منڈیوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ اس کے باوجود، بھارت کے معاشی بنیادی اصول مضبوط ہیں، اور اس کی معیشت عالمی چیلنجوں کے مقابلے میں اپنی لچک کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ RBI کا کہنا ہے کہ وہ ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read