Bharat Express DD Free Dish

India Set to Emerge as a Global Port Power: بھارت عالمی بندرگاہی طاقت بننے کی راہ پر، انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی اسے جلد بنا سکتی ہے عالمی تجارتی مرکز

بھارت میں ’’ساگرمالا پروجیکٹ‘‘، ساحلی اقتصادی زونز، جدید فریٹ کوریڈورز اور بندرگاہوں کی توسیع جیسے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ مغربی اور مشرقی ساحلوں پر موجود کئی بندرگاہوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ مال برداری اور تیز تر شپنگ کو ممکن بنایا جا سکے۔

نئی دہلی: دنیا بھر میں تجارت اور شپنگ کے نظام میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور اس بدلتے منظرنامے میں بھارت کو مستقبل کی ایک بڑی معاشی اور تجارتی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس وقت چین عالمی بندرگاہی نظام اور کنٹینر ٹریفک میں سب سے آگے ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کی تیز رفتار معاشی اور انفراسٹرکچر ترقی اسے آنے والے برسوں میں چین کے قریب لا سکتی ہے۔ حال ہی میں جاری ایک عالمی چارٹ کے مطابق دنیا کی 20 مصروف ترین بندرگاہوں میں چین کی کئی بندرگاہیں سرفہرست ہیں۔ شنگھائی پورٹ نے 2024 میں 51.5 ملین TEU (ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹ) کنٹینرز سنبھالے، جبکہ شین ژین، ننگبو ژوشان، چنگ ڈاؤ، گوانگژو اور تیانجن جیسی بندرگاہیں بھی عالمی فہرست میں نمایاں مقام پر رہیں۔

چین کی برتری، مگر بھارت کی رفتار تیز

رپورٹ کے مطابق عالمی کنٹینر ٹریفک کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ صرف چین کے پاس ہے، جو اس کی مضبوط مینوفیکچرنگ اور برآمدی معیشت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت جس رفتار سے بندرگاہوں، صنعتی راہداریوں، فریٹ کوریڈورز اور لاجسٹکس نیٹ ورک پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، وہ مستقبل میں عالمی تجارتی نقشہ بدل سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں انفراسٹرکچر کی توسیع براہِ راست معاشی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔

بھارتی بندرگاہیں ترقی کا نیا مرکز

بھارت میں ’’ساگرمالا پروجیکٹ‘‘، ساحلی اقتصادی زونز، جدید فریٹ کوریڈورز اور بندرگاہوں کی توسیع جیسے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ مغربی اور مشرقی ساحلوں پر موجود کئی بندرگاہوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ مال برداری اور تیز تر شپنگ کو ممکن بنایا جا سکے۔ اقتصادی مبصرین کا کہنا ہے کہ بحرِ ہند میں بھارت کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے ایشیا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کو جوڑنے والا اہم تجارتی مرکز بنا سکتا ہے۔

امریکہ امیر ترین، مگر ایشیا شپنگ میں آگے

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی اور دولت مند معیشت ہونے کے باوجود عالمی سطح کی مصروف ترین بندرگاہوں میں اس کی صرف دو بندرگاہیں لاس اینجلس اور لانگ بیچ شامل ہیں، جبکہ ایشیائی ممالک خاص طور پر چین اس میدان میں نمایاں برتری رکھتے ہیں۔  ماہرین کے مطابق عالمی تجارت کا مرکز تیزی سے ایشیا کی جانب منتقل ہو رہا ہے، اور بھارت اس تبدیلی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نظر آ رہا ہے۔

مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں اضافہ

’’میک اِن انڈیا‘‘ اور دیگر صنعتی اسکیموں کے تحت کئی عالمی کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ الیکٹرانکس، آٹوموبائل، فارماسیوٹیکل اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے نے بھی بندرگاہی نظام کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کی نوجوان آبادی، تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت اور جدید انفراسٹرکچر اسے آئندہ برسوں میں دنیا کی بڑی تجارتی طاقتوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والا عشرہ بھارت کے لیے تاریخی ثابت ہو سکتا ہے۔ بندرگاہوں، لاجسٹکس، ڈیجیٹل نیٹ ورک اور صنعتی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری بھارت کو عالمی تجارت میں کہیں زیادہ مضبوط مقام دلا سکتی ہے۔ اگرچہ آج چین اس میدان میں سب سے آگے ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی تیز رفتار ترقی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ مستقبل قریب میں عالمی شپنگ اور تجارتی نظام کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read