Bharat Express DD Free Dish

China’s illegal occupation in Ladakh: ہندوستان نے لداخ کے کچھ علاقوں پر چین کے غیر قانونی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا، حکومت نے پارلیمنٹ میں دیا بیان

چین کی طرف سے ہوٹن پریفیکچر میں دو نئی کاؤنٹیوں کے اعلان کے بعد، جن کے کچھ حصے لداخ میں آتے ہیں، بھارت نے سفارتی ذرائع سے ’’سخت احتجاج‘‘ درج کرایا ہے۔

کیرتی وردھن سنگھ (فائل فوٹو)

چین کی طرف سے ہوٹن پریفیکچر میں دو نئی کاؤنٹیوں کے اعلان کے بعد، جن کے کچھ حصے لداخ میں آتے ہیں، بھارت نے سفارتی ذرائع سے ’’سخت احتجاج‘‘ درج کرایا ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ نئی دہلی نے کبھی بھی ہندوستانی علاقے پر چین کے غیر قانونی قبضے کو قبول نہیں کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ایک بیان میں کہا ’’حکومت ہوٹن پریفیکچر میں دو نام نہاد نئی کاؤنٹیوں کے قیام کے حوالے سے چینی فریق کے اعلان سے آگاہ ہے۔ ان نام نہاد کاؤنٹیوں کے کچھ حصے ہندوستان کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ میں آتے ہیں۔‘‘

ہندوستان کے موقف کو دہراتے ہوئے انھوں نے کہا ’’حکومت ہند نے اس علاقے میں ہندوستانی سرزمین پر چین کے غیر قانونی قبضے کو کبھی بھی قبول نہیں کیا ہے۔ نئی کاؤنٹیوں کے قیام سے نہ تو اس علاقے کے حوالے سے ہندوستان کے دیرینہ اور مستقل موقف پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی چین کے غیر قانونی اور زبردستی قبضے کو جائز قرار دیا جائے گا۔‘‘ انھوں مزید کہا کہ ’’ہندوستان نے سفارتی ذرائع سے اس پیش رفت پر اپنا سخت احتجاج‘‘ درج کرایا ہے۔

حکومت نے سرحدی انفراسٹرکچر کے لیے بجٹ میں کیا ہے اضافہ

حکومت نے سرحدی علاقوں میں چین کی طرف سے جاری انفراسٹرکچر کی ترقی کو بھی تسلیم کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے ’’حکومت سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے پر محتاط اور خصوصی توجہ دے رہی ہے۔‘‘ دریں اثنا حکومت نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ گزشتہ دہائی (2014-2024) کے دوران سرحدی انفراسٹرکچر کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ’’اکیلے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (BRO) نے پچھلی دہائی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ اخراجات کیے ہیں۔ سڑکوں کے نیٹ ورکس، پلوں اور سرنگوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی آبادی کے لیے رابطے میں بہتری آئی ہے اور ہماری مسلح افواج کو بہتر لاجسٹک مدد فراہم کی گئی ہے۔‘‘ مرکزی وزیر مملکت نے مزید بتایا کہ ’’حکومت ہندوستان کی سلامتی کو متاثر کرنے والی تمام پیش رفتوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتی ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read