دنیا میں امن قائم رکھنے اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے قائم اقوام متحدہ آج اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالی بحران سے دوچار ہے۔ اس بحران کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ادارہ غزہ میں مؤثر مداخلت کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اقوام متحدہ پر عالمی اعتماد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
اقوام متحدہ کے بجٹ میں سب سے بڑی کمی امریکہ کی طرف سے کی گئی، جہاں 2023 سے قبل کے مقابلے میں امداد میں 30 سے 35 فیصد تک کی کمی آ چکی ہے۔ اس کٹوتی کے اثرات اقوام متحدہ کے ہر ذیلی ادارے تک پہنچے ہیں، چاہے وہ بچوں کی بہبود کا معاملہ ہو یا عالمی صحت یا انسانی امداد کی فراہمی۔
یونیسف کے نائب ڈائریکٹر خوسے سواریز نے صورت حال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اب صرف ریاستی فنڈنگ اور روایتی عطیات پر انحصار نہیں کر سکتے‘‘۔ یونیسف نے مجبوری کے تحت نیویارک سے اپنے کئی دفاتر نائیروبی، بنکاک اور عمان منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے مرکزی سیکریٹریٹ کی سپرنا بنرجی نے انسانی امداد کی فنڈنگ کے خاتمے کو ’’سانحہ‘‘ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی بقا خطرے میں
عالمی ادارہ صحت (WHO) کو 2024-25 کے بجٹ میں 1.1 ارب ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔ عالمی غذائی پروگرام نے 6,000 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پناہ گزینوں کے امور کا ادارہ (UNHCR) ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ، جو کبھی انسانی ہمدردی کے عالمی ردعمل کا ستون سمجھا جاتا تھا، اب بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ روایتی اتحادی جیسے برطانیہ اور یورپی ممالک بھی اپنی مالی امداد میں کمی کر چکے ہیں۔ اگرچہ چین نے اپنے عطیات میں اضافہ کیا ہے، مگر اس کی مدد مشروط اور مفادات پر مبنی ہے۔
بھارت کے لیے عالمی قیادت کا موقع
ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ بحران کا شکار ہے، بھارت کے پاس قیادت کا نادر موقع موجود ہے۔ بھارت کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست دی جائے، مگر اب وقت ہے کہ بھارت محض دعویٰ نہ کرے بلکہ عملی کردار ادا کرے۔ اگر بھارت خود کو ’’وشو گرو‘‘ یعنی عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، تو یہ بحران اس کی خارجہ پالیسی کو ہمدردی اور حکمت عملی سے جوڑنے کا موقع ہے۔
بھارت کا ممکنہ کردار: امداد، قیادت اور اصلاحات
بھارت اقوام متحدہ کے اہم اداروں جیسے UNDP، یونیسف، اور امن قائم رکھنے والے کمیشن میں اپنی رضاکارانہ امداد میں اضافہ کر سکتا ہے۔ موجودہ رپورٹس کے مطابق بھارت آنے والے پانچ سالوں میں ’’انڈیا-یو این ڈیولپمنٹ پارٹنرشپ فنڈ‘‘ میں 50 ملین ڈالر تک کا اضافہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ بھارت اگر افریقہ، چھوٹے جزیراتی ترقی پذیر ممالک، اور جنگ سے متاثرہ خطوں میں اقوام متحدہ کے ساتھ اشتراک کرے، تو نہ صرف عملی فائدہ ہوگا بلکہ بھارت کی عالمی قیادت کا دعویٰ بھی مضبوط ہوگا۔
بھارت کو اپنے سب سے معتبر شعبے یعنی امن مشن میں بھی قیادت کرنی چاہیے۔ خواتین پر مشتمل دستے، انجینئرنگ بٹالین اور ایک ممکنہ ’’انڈیا پیس کیپنگ ٹریننگ ہب‘‘ جیسے اقدامات اقوام متحدہ کی موجودہ کمی کو پورا کرنے میں مدد دیں گے۔
سہ فریقی تعاون: بھارت کا سفارتی ہنر
چین جیسے ممالک کے مقابلے میں بھارت مالی طاقت میں پیچھے ہے، مگر وہ وژن اور تعاون سے اپنی حیثیت مستحکم کر سکتا ہے۔ بھارت جنوبی ممالک کے ساتھ ’’ساؤتھ-ساؤتھ‘‘ اور سہ فریقی تعاون کو فروغ دے سکتا ہے، جس میں بھارت، ایک ترقی یافتہ ملک، اور ایک ترقی پذیر ملک مل کر امدادی پروگرام چلائیں۔
اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت
اگر بھارت اقوام متحدہ کی مالی مدد کرتا ہے تو اسے ادارے میں اصلاحات کے لیے بھی آواز بلند کرنی چاہیے۔ موجودہ ڈھانچہ 1945 کے بعد سے جوں کا توں ہے۔ بھارت کو قیادت کی جمہوریت، سلامتی کونسل کی توسیع، اور مالی شفافیت جیسے بنیادی مسائل پر اصلاحات کی وکالت کرنی ہوگی۔
بھارت کی خارجہ پالیسی: عملی نظریہ
بھارت کی امدادی حکمت عملی کو اب دوطرفہ اور کثیرالطرفہ ماڈل کے امتزاج میں ڈھالنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے ساتھ اشتراک بھارت کو کم لاگت پر زیادہ سفارتی اثر حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، خاص طور پر افریقہ سے لاطینی امریکا تک کے خطوں میں۔
تاریخ کا اہم موڑ
اقوام متحدہ کے موجودہ بحران نے نہ صرف عالمی نظام کو متزلزل کر دیا ہے بلکہ قیادت کے نئے معیار بھی متعین کیے ہیں۔ بھارت کے لیے یہ وقت محض نشست کے حصول کا نہیں بلکہ عالمی نظام کو ازسرِنو تعمیر کرنے کا ہے۔ دنیا ایک ایسے ملک کی منتظر ہے جو ہمدردی، حکمت اور حوصلے کے ساتھ قیادت کر سکے — اور بھارت کے پاس یہ سب کچھ فراہم کرنے کا موقع موجود ہے۔ کیا بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھا سکے گا؟ یہی سوال اس کی عالمی شناخت اور قیادت کی میراث کا فیصلہ کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

