مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔
احمد آباد: مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے جمعرات کے روز احمد آباد میں کہا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران بھارت کے ردعمل نے ضروری طبی سازوسامان کی مقامی سطح پر تیاری کی صلاحیت تیزی سے فروغ دینے کی ملک کی قابلیت کا مظاہرہ کیا۔ سندھو بھون میں ٹروئیکا فارماسیوٹیکلز لمیٹڈ کی جانب سے منعقدہ آر وی پٹیل فارمی نووا ایوارڈز 2026 تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ جب وبا پوری دنیا میں پھیل رہی تھی، اس وقت بھارت کے ہیلتھ کیئر سسٹم کی صلاحیت کو لے کر کافی خدشات موجود تھے۔ حالانکہ، ملک نے مرکز، ریاستی حکومتوں اور 140 کروڑ بھارتی شہریوں کے اجتماعی ردعمل کے ذریعے اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔
وبا کے دوران ملک کے ردعمل کو یاد کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا، ’’بھارت نے پوری دنیا کے سامنے اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔‘‘ انہوں نے سب سے پہلے ’جنتا کرفیو‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ لوگوں نے وزیر اعظم پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی اپیل پر عمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ بھارت وبا کے خلاف جنگ جیتے گا۔ شاہ نے کہا، ’’جب ملک کے عوام عزم کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہوتے ہیں تو کسی بھی چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘‘
بھارت نے صرف اپنی ضروریات پوری نہیں کیں
انہوں نے کہا کہ وبا کے دوران بھارت کی کوششیں صرف اپنی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں تھیں۔ ملک نے ویکسین بھی تیار کیں اور انہیں کئی دیگر ممالک کو فراہم کیا، جس سے بیماری کے خلاف عالمی سطح پر جاری جنگ میں تعاون ملا۔ انہوں نے کہا، ’’بحران کے دوران بھارت نے کئی شعبوں میں تیزی سے مقامی صلاحیتیں تیار کیں۔ وبا کے آغاز میں ملک میں پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ (پی پی ای) کٹس کی پیداوار بہت محدود تھی، جبکہ این 95 ماسک حاصل کرنا بھی مشکل تھا۔ مختصر مدت میں بھارت نے بڑے پیمانے پر پی پی ای کٹس اور ماسک تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کی اور بعد میں ان مصنوعات کا ایک بڑا پروڈیوسر اور برآمد کنندہ بن کر ابھرا۔‘‘
13 ماہ میں کوویکسین اور کووی شیلڈ کی تیاری
امت شاہ نے مقامی سطح پر ویکسین تیار کرنے کی صلاحیتوں کی ترقی پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق، بھارت نے 13 ماہ کے اندر کوویکسین اور کووی شیلڈ سمیت ویکسین تیار کیں، جو بے مثال صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کے دوران ملک کی سائنسی اور صنعتی صلاحیت کا مظاہرہ تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اس تجربے نے دکھایا کہ بھارت نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ بحران کے وقت دیگر ممالک کی بھی مدد کر سکتا ہے۔‘‘
فارماسیوٹیکل شعبے میں تحقیق و ترقی پر زور
شاہ نے وبا کے تجربے کو فارماسیوٹیکل شعبے میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کی اہمیت سے بھی جوڑا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’فارماسیوٹیکل شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں کو اس وقت تک اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہوگی جب تک بھارت آر اینڈ ڈی کے شعبے میں خود انحصار ہونے کے لیے مضبوط نظام تیار نہیں کر لیتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ معاشرے اور صنعت کی جانب سے ریسرچرس کو تسلیم کرنا بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر وی پٹیل فارمی نووا ایوارڈز جیسے اعزازات تحقیق کے شعبے میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کو تسلیم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

