نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے پیر کے روز فیصلہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی معاہدے پر جاری بات چیت کو رواں سال کے اختتام تک مکمل کیا جائے گا، تاکہ باہمی تجارت اور اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی، اہم و نایاب معدنیات (کریٹیکل منرلز) اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
2030 تک 50 ارب ڈالر تجارت کا ہدف
دوطرفہ ملاقات کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کا ہدف 2030 تک باہمی تجارت کو 50 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانا دونوں حکومتوں کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) کو جلد حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ٹیکنالوجی اور اختراع میں تعاون
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں قدرتی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ بھارت میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ کی کامیابی میں کینیڈا کے تعاون پر وزیرِاعظم مارک کارنی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ساتھ ساتھ کوانٹم ٹیکنالوجی، سپر کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ کریٹیکل منرلز سے متعلق مفاہمتی یادداشت مضبوط اور مستحکم سپلائی چین کے قیام میں مدد دے گی۔ خلائی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کو باہم جوڑنے پر اتفاق کیا گیا۔
2.6 ارب ڈالر کا یورینیم معاہدہ
بھارت اور کینیڈا نے 2.6 ارب امریکی ڈالر کے یورینیم معاہدے پر دستخط کیے، جسے دوطرفہ اقتصادی شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ بھارت کے شہری جوہری توانائی پروگرام کے لیے طویل مدتی ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ اس سے صاف اور قابل اعتماد توانائی کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ مزید یہ کہ دونوں ممالک نے اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز اور جدید نیوکلیئر ری ایکٹرز جیسی نئی ٹیکنالوجیز پر مشترکہ کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


