نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، صوبہ دہلی (رجسٹرڈ) کی گورننگ باڈی کا ایک اہم اجلاس آج منعقد ہوا، جس میں دہلی کے موجودہ حالات، ملی اتحاد، نوجوانوں کے مسائل، تعلیم، اوقاف، مجلس مشاورت کی ذمہ داریوں اورآئندہ کے پروگراموں سمیت متعدد اہم امورپرتفصیلی غوروخوض کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت سید محمد نوراللہ نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مجلس کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ایم اے جوہر نے انجام دیئے۔ اجلاس کا آغازمولانا انوارعلی قاسمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد جنرل سکریٹری ڈاکٹرایم اے جوہرنے ایجنڈا پیش کیا، جس میں بالخصوص دہلی کے موجودہ حالات کے تناظرمیں مجلس مشاورت کوکیا کردارادا کرنا چاہئے، مختلف امورکے لئے تشکیل دی گئی کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کرنے، گورننگ باڈی کے ذمہ داران کی اپنی ذمہ داریوں کے تئیں سنجیدگی، سالانہ ممبرشپ فیس اورسالانہ جنرل باڈی میٹنگ (اے جی ایم) کے انعقاد سے متعلق امورشامل تھے۔
اجلاس میں اس بات پرزوردیا گیا کہ پہلے تشکیل دی گئی مختلف کمیٹیوں کواپنی رپورٹس گورننگ باڈی کے سامنے پیش کرنی چاہئیں تاکہ ان کی کارکردگی اورپیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے اورآئندہ کے لیے مناسب لائحۂ عمل طے کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ ذمہ داران کواپنی ذمہ داریوں کوپوری سنجیدگی، باقاعدگی اوراجتماعی جذبے کے ساتھ ادا کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا گیا۔ دہلی کے موجودہ حالات پرگفتگوکرتے ہوئے ایڈووکیٹ جی ایس کاظمی نے ملت میں اتحاد واتفاق کووقت کی اہم ضرورت قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مسلم تنظیموں، اداروں اور طبقات کے درمیان باہمی تعاون اوراتحاد کومضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اورمسلسل کوششیں کی جانی چاہئیں، کیونکہ موجودہ حالات میں اجتماعی قوت ہی مسائل کا مؤثر مقابلہ کرسکتی ہے۔
نوجوان نسل سے متعلق بعض سماجی مسائل پراظہارِتشویش
یاسین رانا نے نوجوان نسل سے متعلق بعض سماجی مسائل پراظہارِتشویش کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں اورلڑکوں کے درمیان بڑھتا ہوا غیرضروری میل جول ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس پروالدین، خاندان اورمعاشرے کوسنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سید محمد نوراللہ نے ملت کے افراد پرحملوں اورموب لنچنگ کے واقعات کی روک تھام پرزوردیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو کسی بھی صورت میں معمول کا حصہ نہیں بننے دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے قانونی، جمہوری اوراجتماعی سطح پرمؤثراقدامات اور متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ مولانا انوارعلی قاسمی نے علماء کی ذمہ داریوں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں علماء کواپنی ذمہ داریاں مزید سنجیدگی سے ادا کرنی چاہئیں اورعوام، خصوصاً نوجوان نسل کی دینی، اخلاقی اورسماجی رہنمائی میں فعال کردارادا کرنا چاہئے۔ انجینئرخلیق الزماں نے تعلیم کی اہمیت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے بیشترمسائل کا پائیدارحل بہتراورمعیاری تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کوجدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ذمہ داراورباشعورشہری بنانے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ سید شاداب نے مسلمانوں کی سیاسی شرکت اورنمائندگی کے موضوع پراظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلم معاشرے کے لوگوں کوجمہوری اورسیاسی عمل میں آگے آنا چاہئے اور اپنے مسائل کو مؤثراندازمیں متعلقہ فورم تک پہنچانے کے لئے سیاسی شعوراورعملی کردارکومضبوط بنانا چاہئے۔
والدین اورمعاشرے کے ذمہ دارافراد سے بڑی اپیل
پروفیسرایم رحمت اللہ نے دہلی کے موجودہ سماجی حالات، خصوصاً نوجوان نسل سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لڑکیوں اور غیر مسلم لڑکوں کے درمیان ہونے والے ایسے میل جول، جو بعض اوقات خاندانوں اور معاشرے کے لیے پیچیدہ مسائل پیدا کردیتے ہیں، ان کے تدارک کے لیے پرامن، قانونی، سماجی، تعلیمی اور اخلاقی سطح پر مؤثر تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض جذباتی ردعمل یا تنقید سے ایسے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ والدین، تعلیمی اداروں، علماء، سماجی تنظیموں اور ذمہ دار شہریوں کو مل کر نوجوان نسل کی مناسب رہنمائی کرنی ہوگی۔ پروفیسررحمت اللہ نے کہا کہ والدین کوچاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ اوراعتماد پرمبنی تعلق قائم کریں، ان کی سرگرمیوں پرمناسب نظررکھیں اورانہیں اخلاقی، سماجی اورتعلیمی اعتبارسے مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے اس بات پربھی زوردیا کہ نوجوانوں کوجدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیبی، اخلاقی اورسماجی اقدارسے واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دورکے پیچیدہ سماجی مسائل کا حل جذباتی ردعمل میں نہیں بلکہ تعلیم، شعور، خاندانی تربیت، مثبت مکالمے اورمؤثرسماجی اقدامات میں مضمرہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے قانون کوہاتھ میں لینے کے بجائے آئینی اورقانونی طریقۂ کاراختیارکیا جانا چاہئے۔ انہوں نے والدین اورمعاشرے کے ذمہ دارافراد سے اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کی سرگرمیوں پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، تاکہ وہ کسی دباؤیا جذباتی فیصلے کے بجائے سوچ سمجھ کر اپنے مستقبل کا انتخاب کرسکیں۔
اوقاف کے نظام کومزید مؤثراورشفاف بنانے کی ضرورت پرزور
ایڈووکیٹ سرفرازنے اوقاف کے نظام کومزید مؤثراورشفاف بنانے کی ضرورت پرتفصیلی گفتگوکی اوراس سلسلے میں اپنی جانب سے تیارکی گئی بعض فائلوں کا بھی ذکرکیا۔ انہوں نے اسکولوں کے باہربچوں کی حفاظت اوروالدین کی نگرانی کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی سلامتی اوربہترتربیت کے لیے والدین کوزیادہ فعال کردارادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے اوقاف سے متعلق بعض معاملات میں انتظامی مشکلات کا بھی ذکرکیا اورکہا کہ متعلقہ ذمہ داران کوعوامی مسائل اورشکایات کے ازالے کے لیے زیادہ حساس اورجواب دہ ہونا چاہئے۔ اجلاس کے آخری مرحلے میں جنرل سیکریٹری ڈاکٹرایم اے جوہرنے مجلس مشاورت کے بنیادی کردارکی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی مجلس مشاورت کا بنیادی کام صوبے کی سطح پر اہم ایشوزاورمسائل کو سامنے لانا، ان سے متعلق تنظیموں اورمتعلقہ حلقوں کوآگاہ کرنا، اچھے اورقابلِ عمل مشورے دینا اوران پرعملی پیش رفت کے لیے ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجلس مشاورت کا کام ذاتی طورپرگلی محلوں میں جاکرکام کرنا نہیں بلکہ اجتماعی سطح پراہم مسائل پرغورکرنا، ان کے حل کے لیے تجاویزمرتب کرنا اورمتعلقہ تنظیموں واداروں کوان سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں جواہم ایشوزسامنے آئیں گے، ان پرمنظم اندازمیں گفتگوکی جائے گی اوران کے حل کے لیے مناسب اقدامات کی سفارش کی جائے گی۔
سالانہ جنرل باڈی میٹنگ سے متعلق بڑا فیصلہ
اجلاس میں مجلس مشاورت کی سالانہ جنرل باڈی میٹنگ (اے جی ایم) کے انعقاد پربھی تفصیلی غورکیا گیا۔ اس سلسلے میں 4 یا 11 اکتوبر2026 میں سے کسی ایک تاریخ کواے جی ایم منعقد کرنے کی تجویزسامنے آئی، جبکہ اجلاس کا وقت دوپہر 2 بجے مقررکرنے پراتفاق کیا گیا۔ حتمی تاریخ باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی۔ شرکاء نے اس بات پراتفاق کیا کہ اے جی ایم میں دہلی بھرسے مجلس کے تمام ممبران کی زیادہ سے زیادہ شرکت کویقینی بنایا جائے گا اورتمام اراکین مقررہ وقت پرپہنچ کراجلاس کو کامیاب بنائیں گے۔ اجلاس کے اختتام پرتمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں بہتر، پُرامن، باہمی احترام اورسماجی ہم آہنگی پرمبنی ماحول پیدا کرنے کے لئے جوبھی مثبت اورتعمیری کوششیں کی جائیں گی، ان کی حمایت اورحوصلہ افزائی کی جائے گی۔ شرکاء نے باہمی اتحاد، مشاورت اوراجتماعی جدوجہد کووقت کی اہم ضرورت قراردیتے ہوئے مجلس مشاورت کے پلیٹ فارم کومزید فعال اورمؤثربنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


