سہارنپور کے چھاپرگاؤں میں شیو مندر کو نقصان پہنچائے جانے کے بعد بھڑکے احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کی کیرانہ سے رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو ’ملی‘ اور ’دہشت گرد‘ کہے جانے پر انہوں سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ اقرا حسن نے کہا کہ یہ صرف ان کی نہیں بلکہ پورے سماج کی خواتین کی توہین ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ دب کر سیاست نہیں کریں گی اور سماج کو توڑنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔
— Iqra Hasan (@IqraMunawwar_) October 15, 2025
’یہ میرا نہیں، پورے علاقے کی خواتین کی توہین‘
سہارنپور کے گنگوہ علاقے میں ایک شیو مندر کے کچھ حصے کو توڑے جانے کے بعد اقرا حسن کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چھاپور گاؤں میں انہیں ’ملی‘ اور ’دہشت گرد‘ کہہ کر بے عزت کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوبارہ اسی علاقے میں آئیں تاکہ عوام کے درمیان کھل کر اپنی بات رکھ سکیں۔ انہوں نے گاؤں کے لوگوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ کسی بھی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانا انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن لوگوں کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے ان کی انہوں نے کبھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کسی کے حق میں کوئی سفارش کی۔ اقرا حسن نے کہا کہ اگر کسی اور کی ملوث ہونے کی بات سامنے آئے تو اسے بھی سخت سزا دی جانی چاہیے۔
سماج کو توڑنے کی سازش
اقرا حسن نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہر کسی کو احتجاج کا حق ہے، مگر جس طرح مذہب، برادری اور عورتوں کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا وہ سماج کو توڑنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ ہر مذہب اور ذات کے لوگوں نے انہیں اپنی بیٹی اور بہن سمجھ کر ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا ’’اب جو گالیاں دی گئی ہیں، وہ صرف میرا نہیں، اس خطے کی ہر عورت کی توہین ہے،‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سیاست نہیں بلکہ سماج کی بات کرنے آئی ہیں۔
’میں دب کر سیاست نہیں کروں گی‘
اقرا حسن نے کہا کہ کچھ عناصر مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہے ہیں اور وہ ایسی سیاست کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے انہیں گاؤں نہ جانے کا مشورہ دیا تھا، لیکن انہوں نے دو ٹوک کہا کہ ’’یہ میرا علاقہ ہے، میں اپنے لوگوں کے درمیان ضرور جاؤں گی۔‘‘ انہوں نے ایک سابق رکن پارلیمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے اس حامی کے بیان کی مذمت کرنی چاہیے جس نے انہیں ’دہشت گرد‘ اور ’ملی‘ کہا تھا۔ آخر میں اقرا حسن نے کہا ’’میں دب کر سیاست نہیں کروں گی اور جو لوگ سماج کو بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


