Bharat Express DD Free Dish

social justice india

جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ خواتین کی قومی سکریٹری رحمت النساء نے ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی بے حسی، فحاشی اور خواتین کو محض ایک شے کے طور پر پیش کرنے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس کے تدارک کے لیے ذمہ دار میڈیا طرزِ عمل اور اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے بہار میں خواتین کی ووٹر لسٹ میں شمولیت اور ان کی نمائندگی میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ ووٹر لسٹ سے خارج افراد کو پیشگی اطلاع اور ان کو اپنے اعتراضات درج کرانے کا موقع دیا جائے گا یا انہیں ؟ یا ’ نئے ووٹر ‘ کے طور پر ان کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی؟

اقرا حسن نے کہا ہے کہ یہ نہ صرف ان کی بلکہ معاشرے کی خواتین کی توہین ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ دباؤ میں آکر سیاست میں حصہ نہیں لیں گی اور معاشرے کو تقسیم کرنے والوں کو کبھی نہیں بخشیں گی۔

محمد ادیب کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف حکومت کی پالیسی میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مودی سرکار کی مسلم مخالف بیانیے کی قلعی بھی کھولتا ہے۔

پرینکا گاندھی نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی عام شہری ہو یا کسی اعلیٰ عہدے پر فائز افسر، اگر وہ دلت طبقے سے ہے تو اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’جب اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے دلت افسران کے ساتھ یہ برتاؤ ہو رہا ہے تو عام دلت سماج کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔‘‘

جے رام رمیش کے مطابق اب یہ فیصلہ مودی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس سفارش کو قانون میں ڈھالتی ہے یا نہیں۔ کمیٹی کی رپورٹ نے اس اقدام کی آئینی بنیاد اور ضرورت دونوں کو مضبوط کیا ہے۔