بہار اسمبلی انتخابات کے بعد لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ کے سیاست چھوڑنے اور خاندان سے دوری بنانے کے اعلان نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ ایسے میں مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ خاندانی تنازع جلد ختم ہو جائے۔ پٹنہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چراغ پاسوان نے کہا کہ ’’میں اس معاملے پر کوئی خاص تبصرہ نہیں کروں گا، کیونکہ جب کوئی خاندان ایسے مشکل دور سے گزرتا ہے تو میں ان کی ذہنی کیفیت سمجھ سکتا ہوں۔ میں خود بھی ایسی ہی صورتحال سے گزر چکا ہوں۔‘‘
لالو خاندان کو ہمیشہ اپنا سمجھا
چراغ پاسوان نے اعتراف کیا کہ ان کے اور آر جے ڈی قیادت کے درمیان سیاسی اختلافات رہے ہیں، مگر ذاتی تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہمارے درمیان سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن میں نے ہمیشہ لالو پرساد یادو کے خاندان کو اپنا مانا ہے۔ میں نے ہمیشہ تیجسوی، تیج پرتاپ، میسا دی، روہنی اور باقی سب کو اپنا بھائی اور بہن سمجھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ خاندانی اختلاف جلد سلجھ جائیں۔‘‘
گھر میں اتحاد کا ہونا بہت اہم ہے
چراغ پاسوان نے کہا کہ اگر گھر میں اتحاد قائم رہے تو باہر کی مشکلات کا مقابلہ آسان ہوتا ہے، مگر اگر گھر کے اندر ہی تنازع ہو تو بیرونی حالات مزید سخت ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آج جس دور سے آر جے ڈی گزر رہی ہے اور ساتھ ہی خاندان میں بھی اختلافات ہیں، میں سمجھ سکتا ہوں کہ خاندان کس قدر مشکل حالات میں ہے۔‘‘
دیپا مانجھی کا سخت حملہ
ادھر نو منتخب این ڈی اے رکن اسمبلی دیپا مانجھی نے تیجسوی یادو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اپنے والد کو کڈنی دینے والی بیٹی کے ساتھ گھر میں بدسلوکی کی گئی، اسے گھر سے نکال دیا گیا اور جسمانی طور پر بھی اذیت دی گئی۔ اگر خاندان میں ہی ایسا سلوک ہو رہا ہے تو ایسے لوگ عوام کے لیے کیسے کام کر سکتے ہیں؟‘‘ عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹرس نے دوسری بار انہیں موقع دے کر ان پر اعتماد ظاہر کیا ہے اور وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اپنے حلقے کی خدمت کریں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




