Bharat Express DD Free Dish

Increased use of waterways in India: گزشتہ پانچ برسوں میں نقل و حمل کے لیے آبی گزرگاہوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ، مسافروں کی تعداد 33.16 لاکھ سے بڑھ کر 1.61 کروڑ ہوئی

وہیں آبی گزرگاہوں کا استعمال کرتے ہوئے کارگو کی نقل و حرکت بھی 2019-20 میں 73.64 ملین ٹن سے بڑھ کر 2023-24 میں 133.03 ملین ٹن ہوگئی ہے۔

مرکزی حکومت نے ایم پی پرمل نتھوانی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ تازہ اعداد و شمار کےمطابق سفر کے لیے قومی آبی گزرگاہوں کا استعمال کرنے والے مسافروں کی تعداد میں 20-2019 میں 33.16 لاکھ کے مقابلے 2023-24 میں 1.61 کروڑ تک کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وہیں آبی گزرگاہوں کا استعمال کرتے ہوئے کارگو کی نقل و حرکت بھی 2019-20 میں 73.64 ملین ٹن سے بڑھ کر 2023-24 میں 133.03 ملین ٹن ہوگئی ہے۔

ممبر پالیمنٹ نتھوانی نے پچھلے پانچ سالوں کے دوران سفر کے لیے آبی گزرگاہوں کا استعمال کرنے والے مسافروں اور سامان کے نقل و حمل سے متعلق اعداد و شمار اور تفصیلات طلب کی تھیں۔ انھوں نے کارگو اور مسافروں کی نقل و حمل کے لیے آبی گزرگاہوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کے بارے میں بھی سوال کیا۔

جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال کے تحریری جواب کے مطابق ہندوستان کے پاس 29 قابل استعمال قومی آبی گزرگاہیں (NW) ہیں جن میں سے چار دریائے نرمدا (NW-73)، تاپی ندی (NW-100)، دریائے کچھ کے جوائی-لونی-رن (NW-48) اور سابرمتی ندی (NW-87) گجرات میں ہیں۔ اندرون ملک آبی نقل و حمل (IWT) کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کی معلومات فراہم کرتے ہوئے مرکزی وزیر سونووال نے کہا کہ کارگو مالکان کے ذریعے IWT کے استعمال کو فروغ دینے اور NW-1، NW-2، اور NW-16 پر ہندوستان-بنگلہ دیش پروٹوکول کے ذریعے کارگو کی نقل و حرکت کے لیے شیڈول سروس قائم کرنے کے مقصد سے 35 فیصد اسکیمز کو منظوری دی گئی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 140 پبلک سیکٹر یونٹس سے بھی رابطہ کیا گیا ہے کہ وہ نقل و حمل کے لیے IWT موڈ کا استعمال کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read