Bharat Express DD Free Dish

Fake diplomatic status: فرضی سفیر،فرضی سفارتخانہ،فرضی مہر اور فرضی دستاویز، یوپی میں فرضی سفارتکاری کا خطرناک جال،اے ٹی ایس نے کیا انکشاف

ہرش وردھن جین کے اس کارنامے سے پڑوسی بھی حیران ہیں۔ ایک پڑوسی نے کہا، ‘گھر میں زیادہ لوگ نہیں دیکھے گئے۔ ہم نے صرف چند چھوٹے ممالک کے جھنڈے والی کاریں دیکھیں۔ ہم نے سوچا کہ یہاں کوئی سفیر رہ رہا ہے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ جعلی سفارت خانہ ہے۔

غازی آباد کے کوی نگر کے ایک علاقے میں، لوگوں نے اکثر سفارتی نمبروں والی لگژری کاروں کو ایک دو منزلہ مکان کے سامنے آتے دیکھاگیا۔ تاہم، ان میں سے اکثر کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اندر سے مغربی آرکٹیکا کا سفیر ہونے کا دعویٰ کرنے والا ایک شخص فرضی  دستاویزات، فرضی  سفارت خانے اور بین الاقوامی سودوں کے وعدوں کی بنیاد پر ایک بڑا ریکیٹ چلا رہا ہے۔ یوپی ایس ٹی ایف کی نوئیڈا یونٹ نے احاطے پر چھاپہ مار کر ہرش وردھن جین کو گرفتار کر لیاہے۔اب اس پورے معاملے کی بات کریں تو 45 سالہ شخص نے KB-35 میں ایک مکان کرائے پر لیا تھا اور اسے مغربی آرکٹیکا کا سرکاری سفارت خانہ بتا کر اپنے نام پر رکھ لیا تھا۔ اس نے خود کو سیبورگہ اور لوڈونیا جیسے دیگر مائیکرونیشنز کے ساتھ ساتھ پولویا جیسے فرضی ممالک کا سفارت کار بھی بتایا۔ ایس ٹی ایف حکام کے مطابق جین نے سفارتی شناختی کارڈ، وزرائے اعظم اور صدور سمیت اعلیٰ عہدے داروں کی تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ یہی نہیں وزارت خارجہ کی جعلی مہروں والے سرٹیفکیٹ بھی اس میں شامل تھے۔

میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں، پولیس نے کہاکہ اس نے سفارت کاری کی آڑ میں تاجروں کو متاثر کیا، ان سے بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کا وعدہ کیا اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے حوالا نیٹ ورک چلایا۔ ایس ٹی ایف حکام نے سفارتی نمبر پلیٹس والی چار مہنگی کاریں، 12 چھوٹے ممالک کے سفارتی پاسپورٹ، وزارت خارجہ کی مہر والی دستاویزات، 34 ممالک کی مہریں، 44 لاکھ روپے نقد، غیر ملکی کرنسی اور 18 سفارتی نمبر پلیٹس برآمد کی ہیں۔

ہرش وردھن جین کے اس کارنامے سے پڑوسی بھی حیران ہیں۔ ایک پڑوسی نے کہا، ‘گھر میں زیادہ لوگ نہیں دیکھے گئے۔ ہم نے صرف چند چھوٹے ممالک کے جھنڈے والی کاریں دیکھیں۔ ہم نے سوچا کہ یہاں کوئی سفیر رہ رہا ہے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ جعلی سفارت خانہ ہے۔ کون سوچے گا کہ کوئی سفارت خانہ تھا۔ تمام سفارت خانے دہلی میں ہیں۔جین کے خلاف پہلے بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ 2011 میں، غازی آباد پولیس نے ان کے خلاف سیٹلائٹ فون کے غیر قانونی قبضے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ کیس ابھی بھی کوی نگر پولیس اسٹیشن میں درج ہے۔ عہدیداروں نے یہ بھی کہا کہ اس نے قبل ازیں مذہبی رہنما چندر سوامی اور بین الاقوامی اسلحہ ڈیلر عدنان خشوگی کے ساتھ اپنے روابط کے بارے میں بھی شیخی ماری تھی۔ کوی نگر پولس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read